وزیراعظم شہباز شریف نے 15 سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دورے کے دوران دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ دفترِ خارجہ نے دورے سے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ اس سہ ملکی دورے کا مقصد نہ صرف باہمی تعاون کو آگے بڑھانا ہے بلکہ علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی مشاورت کرنا ہے۔
اس دورے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہوا جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، سفارتی رابطے اور جنگ بندی کی کوششیں ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی تھیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان اس پورے عرصے میں خطے کے اہم ممالک کے ساتھ رابطے میں رہا، اور وزیراعظم کے یہ دورے اسی وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب میں وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقاتوں کا محور دو طرفہ تعلقات، معاشی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق دورے کے دوران سعودی قیادت کے ساتھ نہ صرف باہمی روابط کا جائزہ لیا گیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری پیش رفت، امن کی کوششوں اور مسلم دنیا کو درپیش بڑے مسائل پر بھی گفتگو ہوئی۔ سعودی عرب پاکستان کے لیے محض ایک قریبی دوست ملک ہی نہیں بلکہ ایک اہم معاشی اور سفارتی شراکت دار بھی ہے، اس لیے یہ مرحلہ دورے کا خاصا اہم حصہ تھا۔
قطر کا پڑاؤ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ دوحہ حالیہ برسوں میں علاقائی مذاکرات، پسِ پردہ سفارت کاری اور تنازعات میں ثالثی کے کردار کے باعث زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم کا قطر جانا اس بات کی علامت سمجھا گیا کہ اسلام آباد خطے کے اہم کرداروں کے ساتھ قریبی مشاورت برقرار رکھنا چاہتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں جاری ہوں۔
ترکی کے دورے میں بھی یہی دوہرا پہلو نمایاں رہا: ایک طرف باہمی تعلقات، دوسری طرف خطے کی صورتحال پر مشاورت۔ انطالیہ پہنچنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ملاقات ہوئی، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ ترکی کا مرحلہ محض رسمی نہیں بلکہ سفارتی طور پر بھی معنی خیز تھا۔ پاکستان اور ترکی کے تعلقات پہلے ہی قریبی سمجھے جاتے ہیں، اس لیے اس ملاقات کو موجودہ علاقائی صورتحال میں اہم مشاورتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس پورے دورے کا ایک معاشی پہلو بھی تھا۔ پاکستان اس وقت مالی دباؤ، قرضوں کے بوجھ اور بیرونی تعاون کی ضرورت جیسے چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی اعتبار سے بھی بہت اہم ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس دورے کو صرف سیاسی یا تزویراتی نہیں بلکہ اقتصادی تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
