امریکی محکمہ دفاع، یعنی پینٹاگون، نے یو ایف اوز سے متعلق خفیہ دستاویزات کے ایک نئے ذخیرے کو آن لائن جاری کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے برسوں پرانے سرکاری ریکارڈ تک عوامی رسائی کا ایک نیا راستہ کھل گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں 162 فائلیں جاری کی گئی ہیں، جن میں ایف بی آئی کے انٹرویوز، پرانے سفارتی کیبلز، ناسا کے ٹرانسکرپٹس اور خلائی مشنز سے متعلق کچھ مواد بھی شامل ہے۔
یہ اقدام امریکی حکومت کی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ بتایا جا رہا ہے جس کا مقصد نامعلوم فضائی یا غیر معمولی مشاہدات، جنہیں اب یو اے پی یعنی Unidentified Anomalous Phenomena کہا جاتا ہے، کے بارے میں زیادہ شفافیت فراہم کرنا ہے۔ اس عمل میں صرف پینٹاگون ہی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس، نیشنل انٹیلیجنس کے ادارے، ناسا، ایف بی آئی اور دیگر سرکاری ادارے بھی شامل ہیں۔ یوں یہ محض ایک عام دستاویزی ریلیز نہیں بلکہ ایک مربوط سرکاری کوشش دکھائی دیتی ہے۔
جاری کی گئی بعض فائلیں خاص طور پر عوامی دلچسپی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان میں ایک ایف بی آئی انٹرویو بھی شامل ہے جس میں ایک ڈرون پائلٹ نے 2023 میں ایک چمکتی ہوئی لمبی شے دیکھنے کا دعویٰ کیا، جو چند سیکنڈ کے لیے نظر آئی اور پھر اچانک غائب ہو گئی۔ اسی طرح اپالو 17 مشن کی ایک ناسا تصویر بھی نمایاں کی گئی ہے، جس میں مثلثی ترتیب میں تین روشن نقطے دکھائی دیتے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق اس منظر کی اب تک کوئی حتمی وضاحت سامنے نہیں آ سکی، اگرچہ ابتدائی جائزے میں اسے کسی حقیقی جسمانی شے سے جوڑا گیا تھا۔
تاہم پینٹاگون نے اس پورے اقدام کو کسی خلائی مخلوق کے وجود کا ثبوت قرار نہیں دیا۔ یہی نکتہ سب سے اہم ہے۔ امریکی حکام پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ اگرچہ گزشتہ برسوں میں سینکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے، لیکن اب تک ایسا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ امریکی حکومت نے کسی ماورائے زمین ٹیکنالوجی کی شناخت کر لی ہے۔ ماہرین بھی خبردار کرتے رہے ہیں کہ کئی بار غیر معمولی نظر آنے والی ویڈیوز یا مشاہدات دراصل تکنیکی حدود، زاویوں یا جدید فوجی نظاموں کی وجہ سے غلط سمجھے جاتے ہیں۔
اس پیش رفت کا ایک قانونی اور انتظامی پس منظر بھی ہے۔ امریکی نیشنل آرکائیوز نے یو اے پی ریکارڈز کے لیے ایک مخصوص ذخیرہ قائم کیا ہے، جسے ریکارڈ گروپ 615 کہا جاتا ہے۔ یہ نظام 2024 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کے تحت تشکیل دیا گیا، تاکہ مختلف وفاقی ادارے یو اے پی سے متعلق عوامی طور پر جاری کیے جا سکنے والے ریکارڈز مرحلہ وار جمع کرائیں۔ اسی لیے اب پینٹاگون کی ویب سائٹ اور نیشنل آرکائیوز کے ریکارڈز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
سیاسی سطح پر بھی اس معاملے کی اہمیت بڑھتی رہی ہے۔ کانگریس نے 2022 میں پینٹاگون کو ہدایت دی تھی کہ وہ دہائیوں پر محیط یو ایف او یا یو اے پی مواد کو زیادہ منظم انداز میں عوام کے سامنے لائے۔ کچھ امریکی ارکانِ کانگریس اس معاملے میں مسلسل زیادہ انکشافات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت سے جب فوجی اہلکاروں نے نامعلوم فضائی مشاہدات کے بارے میں کھلے عام بیانات دینا شروع کیے۔
اس سارے عمل کو “تاریخی” کہنا کسی حد تک درست ہے، مگر شاید اس وجہ سے نہیں جس طرح سنسنی خیز سرخیاں ظاہر کرتی ہیں۔ اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ امریکی حکومت پہلی بار ایک باقاعدہ عوامی نظام بنا رہی ہے جہاں پرانے یو ایف او ریکارڈ، حالیہ یو اے پی کیس فائلیں اور مختلف اداروں کی دستاویزات ایک جگہ دستیاب ہوں گی۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کسی ایک حتمی انکشاف سے زیادہ ایک نئے دورِ شفافیت کی شروعات معلوم ہوتی ہے۔
