پاکستان کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں 100 وکٹیں مکمل کر لیں۔ وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے۔ یہ سنگِ میل انہیں محمود الحسن جوائے کی وکٹ کے ساتھ ملا، جب میچ شیرِ بنگلا نیشنل اسٹیڈیم، میرپور میں کھیلا جا رہا تھا۔
یہ کامیابی صرف ایک ذاتی اعزاز نہیں بلکہ پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ ریکارڈ میں ایک نمایاں اضافہ بھی ہے، کیونکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے آغاز کے بعد کسی پاکستانی بولر نے اس سے پہلے 100 وکٹوں کی حد نہیں چھوئی تھی۔ تازہ رپورٹس کے مطابق، شاہین اس فہرست میں شامل ہونے والے دنیا کے چند منتخب بولرز میں سے ایک ہیں، جو اس کامیابی کی اہمیت کو اور بڑھا دیتی ہے۔
البتہ میچ کے تناظر میں دن زیادہ تر بنگلہ دیش کے نام رہا۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، مگر ابتدائی کامیابیوں کے بعد بنگلہ دیش نے کھیل پر گرفت مضبوط کر لی۔ پہلے دن کے اختتام تک میزبان ٹیم نے 301 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ پر بنا لیے تھے، جبکہ نجم الحسن شانتو نے شاندار سنچری اسکور کی اور مڈل آرڈر نے بھی ٹیم کو مستحکم بنیاد فراہم کی۔
شاہین آفریدی کے لیے یہ لمحہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے سب سے مؤثر ریڈ بال بولرز میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ ان کی نئی گیند سے وکٹ لینے کی صلاحیت، لمبے اسپیل کرنے کی عادت، اور بڑے مواقع پر نمایاں ہونے کا رجحان انہیں پاکستانی اٹیک کا مرکزی چہرہ بنا چکا ہے۔ اسی لیے یہ سنگِ میل محض ایک عدد نہیں، بلکہ ان کے مسلسل اثر و رسوخ کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا شاہین کا یہ تاریخی لمحہ پاکستان کے لیے میچ میں واپسی کا راستہ بھی کھول پاتا ہے یا نہیں۔ ریکارڈ تو ان کے نام ہو گیا، مگر ٹیسٹ کرکٹ میں اصل وزن ہمیشہ نتیجے کا ہوتا ہے۔ پھر بھی، ڈھاکا کے اس دن نے ایک بات بالکل صاف کر دی: شاہین آفریدی اب صرف پاکستان کے اہم فاسٹ بولر نہیں رہے، وہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے پاکستانی سفر کے نمایاں ترین ناموں میں شامل ہو چکے ہیں۔
