بنوں میں حالیہ کارروائی کے دوران مارا جانے والا ایک شدت پسند افغان اسپیشل فورسز کا رکن تھا۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے، اور اگر یہ مؤقف مزید شواہد کے ساتھ سامنے آتا ہے تو اس سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ آ سکتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت فتح اللہ عرف مدثر کے نام سے ہوئی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ افغان طالبان حکومت کے یارموک 60 اسپیشل فورسز بٹالین کا فعال رکن تھا، جو افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق فتح اللہ کا تعلق پکتیا صوبے کے ضلع زرمت سے تھا اور وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر کے ساتھ مل کر پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث رہا۔ پاکستانی سکیورٹی حلقے اس واقعے کو سرحد پار دہشت گردی کے بڑے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
اس دعوے کی حساسیت صرف اس بات میں نہیں کہ ہلاک ہونے والا شخص افغان شہری بتایا جا رہا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ اسے ایک ایسی فورس سے جوڑا جا رہا ہے جو بظاہر افغان ریاستی ڈھانچے کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کئی ماہ سے یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ اس کے خلاف سرگرم شدت پسند افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کابل اس الزام کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ بھی قابلِ غور ہے۔ اب تک فتح اللہ کو افغان اسپیشل فورسز کا رکن قرار دینے کا دعویٰ بنیادی طور پر پاکستانی سکیورٹی ذرائع کی نسبت سے سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے نہ تو افغانستان کی جانب سے کوئی مفصل عوامی ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا مکمل سرکاری دستاویزی ثبوت جاری کیا گیا ہے جس سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ہو سکے۔ اس لیے خبر کی نوعیت میں نسبت اور ماخذ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
بنوں گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے اہم مراکز میں شمار ہوتا رہا ہے۔ رواں سال اس ضلع میں ایک خودکش حملے میں دو پاکستانی فوجی بھی شہید ہوئے تھے، جن میں لیفٹیننٹ کرنل گل فراز شامل تھے۔ پاکستانی فوج اور مقامی میڈیا اس سے پہلے بھی بنوں میں مختلف کارروائیوں میں مطلوب شدت پسند کمانڈروں کی ہلاکت کی خبریں دے چکے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بڑے پس منظر کا حصہ ہے۔ پاکستان مسلسل یہ کہتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی سے منسلک عسکریت پسند افغان سرزمین کو پناہ گاہ اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی اور علاقائی رپورٹس میں بھی اس تنازعے کا ذکر آیا ہے، اگرچہ افغان طالبان حکومت اس مؤقف کو مسترد کرتی رہی ہے۔
اگر آنے والے دنوں میں پاکستان اپنے دعوے کے حق میں مزید عوامی شواہد پیش کرتا ہے تو اس کے اثرات کافی دور رس ہو سکتے ہیں۔ اس سے یہ سوال مزید نمایاں ہوگا کہ آیا افغانستان میں ریاستی یا نیم ریاستی عسکری پس منظر رکھنے والے افراد پاکستان مخالف سرگرمیوں میں شامل ہو رہے ہیں، یا پھر ایسے روابط کو اسلام آباد کی جانب سے اپنے مؤقف کو مضبوط بنانے کے لیے زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے۔
فی الحال منظرنامہ یہی بتاتا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ اور اہم دعویٰ ہے، مگر اس کی بنیاد پاکستانی سکیورٹی ذرائع کی معلومات پر ہے، نہ کہ کسی مکمل عوامی شواہد نامے پر۔ اس کے باوجود پاکستان کے لیے یہ واقعہ ایک مضبوط سیاسی اور سفارتی پیغام رکھتا ہے: شمال مغربی علاقوں میں جاری دہشت گردی محض اندرونی مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے علاقائی اور سرحد پار پہلو بھی موجود ہیں۔
