اسلام آباد: ملک بھر میں بجلی صارفین کے جون کے بلوں میں ایک بار پھر ردوبدل کا امکان ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 1 روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست سامنے آئی ہے۔ نیپرا اس درخواست پر 2 جون کو سماعت کرے گا۔
حکام کے مطابق یہ اضافہ اپریل کے دوران بجلی کی پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث مانگا گیا ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے لیے آر ایل این جی کی فراہمی کم رہی، جبکہ مہنگے فرنس آئل اور دیگر ایندھن پر انحصار بڑھا۔ اسی وجہ سے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کا مجموعی مالی اثر 14 ارب روپے سے زائد بتایا جا رہا ہے۔
تاہم صارفین کے لیے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ یہ اضافہ مکمل طور پر بلوں پر منتقل نہ بھی ہو۔ پاور ڈویژن کے مطابق جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت 1 روپے 93 پیسے فی یونٹ کمی منظور کی گئی ہے، جس سے جون کے بلوں میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر کافی حد تک زائل ہو سکتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ اس ملاپ کے بعد صارفین کو جون میں تقریباً 20 پیسے فی یونٹ معمولی ریلیف بھی مل سکتا ہے۔
پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ بروقت ایل این جی درآمدات، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے نظام میں انتظامی اقدامات کے باعث صارفین کو 5 سے 6 روپے فی یونٹ کے ممکنہ اضافے سے بچایا گیا۔ حکام کے مطابق عالمی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور آر ایل این جی کی قلت موجود نہ ہوتی تو اپریل کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ صارفین کو فیول ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیپرا نے فروری 2026 کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت 1 روپے 42 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی تھی، جو اپریل کے بلوں میں وصول کیا گیا۔ یہ اضافہ کے الیکٹرک سمیت سابق واپڈا ڈسکوز کے صارفین پر لاگو ہوا، البتہ لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ صارفین کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا۔
بجلی کے بلوں میں یہ اتار چڑھاؤ پاکستان کے توانائی شعبے کے پرانے مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایندھن کی عالمی قیمتیں، روپے کی قدر، گردشی قرضہ، کپیسٹی پیمنٹس اور سبسڈی پالیسی — یہ سب عوامل ہر چند ہفتوں بعد صارفین کے بلوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافہ آتا ہے، اور کبھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے عارضی ریلیف دے دیا جاتا ہے۔
معاشی ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ بجلی کے نرخوں میں اصلاحات، خاص طور پر سبسڈی کے نظام میں تبدیلی، درمیانے طبقے کے گھریلو صارفین پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق مجوزہ پاور پرائس اصلاحات سے صنعتوں کو ریلیف مل سکتا ہے، مگر گھریلو صارفین، خاص طور پر 100 سے 300 یونٹ استعمال کرنے والے طبقات، زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
فی الحال صورتحال کچھ ملی جلی ہے۔ ایک طرف اپریل کی فیول ایڈجسٹمنٹ کے باعث 1.73 روپے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے، دوسری طرف سہ ماہی کمی اس اثر کو کم کر سکتی ہے۔ عام صارف کے لیے اصل سوال یہی ہے: بل آخر کم آئے گا یا زیادہ؟ اس کا حتمی جواب نیپرا کی سماعت اور حکومت کے نوٹیفکیشن کے بعد ہی واضح ہوگا۔
