بیجنگ ایک بار پھر عالمی روبوٹکس کا مرکز بن چکا ہے جہاں ’ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس مقابلے میں دنیا بھر سے 2,000 سے زائد روبوٹس حصہ لے رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اب روبوٹکس محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ کمرشل مارکیٹ کا اہم حصہ بننے جا رہی ہے۔
مقابلے کا دائرہ کار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اس بار صرف بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہی نہیں، بلکہ چھوٹے اور ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس بھی میدان میں ہیں۔ ان کا مقصد صرف روبوٹس کو چلانا یا باتیں کروانا نہیں، بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ مشینیں فیکٹریوں اور ہسپتالوں کے پیچیدہ اور غیر متوقع ماحول میں انسانوں کا ساتھ دینے کے قابل ہیں۔
ایک جج نے افتتاحی تقریب کے دوران کہا، "ہم یہاں کرتب نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آیا یہ مشینیں دھکا لگنے پر خود کو سنبھال سکتی ہیں یا کسی نازک چیز کو بغیر توڑے اٹھا سکتی ہیں یا نہیں۔”
مقابلے کے مختلف زمروں میں روبوٹس کی رفتار، رکاوٹوں کو عبور کرنے کی صلاحیت اور اشیاء کو مہارت سے پکڑنے کے ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں۔ ان تمام مراحل کا مقصد روبوٹس کے سینسرز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے امتزاج کو پرکھنا ہے۔ کمپنیوں کے لیے یہ مقابلہ محض ایک کھیل نہیں، بلکہ اگلی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
تاہم، تکنیکی چیلنجز اب بھی برقرار ہیں۔ بیٹری کی محدود لائف انڈسٹری کے لیے سب سے بڑا دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، کمپیکٹ فریم میں طاقتور پروسیسرز لگانے سے پیدا ہونے والی حرارت کو کنٹرول کرنا انجینئرز کے لیے ایک مسلسل آزمائش ہے۔
ان رکاوٹوں کے باوجود، ترقی کی رفتار حیران کن ہے۔ دو سال پہلے کے پروٹوٹائپس کے مقابلے میں اس سال کے روبوٹس کا توازن اور حرکت کہیں زیادہ فطری ہے۔ جدید لینگویج ماڈلز کی شمولیت نے روبوٹ اور انسان کے درمیان رابطے کو بھی آسان بنا دیا ہے، جو ٹیکنالوجی کو عام استعمال کے قریب لے آیا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کون سی ٹیم اپنی مشین کو سب سے زیادہ مستحکم اور کارآمد ثابت کر پاتی ہے۔ کیا یہ روبوٹس بیجنگ کے میدانوں سے نکل کر حقیقی دنیا کے کام کاج میں جگہ بنا سکیں گے؟ اس کا جواب ان مقابلوں کے نتائج میں چھپا ہے۔
