برطانیہ کے مرکزی تعلیمی نیٹ ورک پر ایک بڑے سائبر حملے کے نتیجے میں ملک بھر کی سینکڑوں جامعات اور کالجز کا ڈیجیٹل نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ اس حملے نے امتحانات، تحقیقی کاموں اور لائبریری سروسز کو ایک ایسے وقت میں منجمد کر دیا ہے جب تعلیمی سیشن اپنے عروج پر ہے۔
تعلیمی شعبے کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فراہم کرنے والے غیر منافع بخش ادارے ‘جسک’ (Jisc) نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ‘جینٹ’ (Janet) نیٹ ورک کو منگل کی رات ایک "بڑے حادثے” کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ محض انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا معاملہ نہیں ہے؛ کئی اداروں کے لیے یہ ایک مکمل ڈیجیٹل بلیک آؤٹ ثابت ہوا ہے جس نے تدریسی عمل کو مفلوج کر دیا ہے۔
اس تعطل سے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ صارفین متاثر ہوئے ہیں۔ اگرچہ کچھ جامعات اپنے مقامی سسٹمز کو کسی حد تک بحال رکھنے میں کامیاب رہیں، لیکن بڑی تعداد میں اداروں کے اسٹوڈنٹ پورٹلز، وائی فائی اور ڈیٹا بیسز مکمل طور پر بند ہو گئے۔ برطانیہ کا نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر (NCSC) اب ‘جسک’ کے ماہرین کے ساتھ مل کر اس حملے کے اثرات کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جسے برطانوی تعلیمی ڈھانچے پر اب تک کا سب سے منظم حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
‘جسک’ کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ "ہماری ٹیمیں چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں، لیکن فی الحال اس کا کوئی فوری حل موجود نہیں ہے۔” اگرچہ حملے کے پیچھے ملوث عناصر کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ حملے کی وسعت اور طریقہ کار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی عام ہیکر کا نہیں بلکہ ایک منظم گروہ کا کام ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف مانچسٹر کے طلبہ نے بتایا کہ وہ نہ تو اپنی اسائنمنٹس جمع کروا پا رہے ہیں اور نہ ہی تحقیقی ڈیٹا تک ان کی رسائی ممکن ہے۔
تعلیمی شعبہ حالیہ برسوں میں ہیکرز کے لیے ایک آسان اور پرکشش ہدف بن کر ابھرا ہے کیونکہ ان اداروں کے پاس طلبہ کا حساس ذاتی ڈیٹا اور اربوں پاؤنڈز کی مالیت کی تحقیقی معلومات ہوتی ہیں۔ عام طور پر انفرادی اسکولوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن ‘جینٹ’ نیٹ ورک—جو پورے برطانوی تعلیمی نظام کی شہ رگ ہے—پر حملہ کرنا ایک انتہائی سنگین اور خطرناک پیش رفت ہے۔
ملک بھر کی آئی ٹی ٹیمیں اب اپنے مقامی نیٹ ورکس کو مرکزی سسٹم سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ڈیٹا چوری کے ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔ فی الحال تمام تر توجہ سروسز کی بحالی پر ہے، لیکن اگر یہ تعطل مزید برقرار رہا تو ہزاروں طلبہ کے امتحانات میں تاخیر اور ڈگریوں کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہونے کا واضح امکان ہے۔
