لومبوک، انڈونیشیا — انڈونیشیا کے جزیرے لومبوک میں واقع ماؤنٹ کاوی آتش فشاں منگل کی رات شدید دھماکے سے پھٹ پڑا، جس کے نتیجے میں کم از کم تین دیہاتی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ راکھ اور لاوے کے بادل کئی کلومیٹر بلندی تک فضا میں بلند ہوئے، جس کے بعد حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ امدادی ٹیمیں اب بھی راکھ اور ملبے میں دبی بستیوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
آتش فشاں کا عمل مقامی وقت کے مطابق رات دس بج کر پینتالیس منٹ پر شروع ہوا۔ پہاڑ کے مشرقی ڈھلوان سے لاوا تیزی سے نیچے کی جانب بہہ نکلا، جس نے کئی چھوٹی بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب تک پانچ ہزار سے زائد رہائشی اپنے گھر بار چھوڑ کر حکومتی پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ لومبوک کے ہسپتالوں میں ستائیس افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جن میں پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے سربراہ وایان سوسیلا نے بتایا کہ ہمیں انتباہ کا وقت بہت کم ملا۔ زلزلے کے جھٹکے تیزی سے بڑھے اور پھر پہاڑ پھٹ گیا۔ لوگ جان بچانے کے لیے بھاگے، لیکن کچھ بدقسمت افراد باہر نہ نکل سکے۔ سوسیلا نے تصدیق کی کہ تین لاشیں باتو پوتیہ گاؤں کے قریب سے ملی ہیں، جو لاوے کے ابتدائی ریلے کی زد میں آ گئے تھے۔
انڈونیشیا کے مرکز برائے آتش فشاں اور ارضیاتی خطرات (PVMBG) نے دھماکے کے فوری بعد الرٹ کی سطح بلند ترین درجے پر کر دی ہے اور پہاڑ کے گرد سات کلومیٹر کے علاقے کو نو گو زون قرار دیا گیا ہے۔ راکھ کے باعث لومبوک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازیں کئی گھنٹے تک معطل رہیں، تاہم اب جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔
ماؤنٹ کاوی، جو گزشتہ دو دہائیوں سے خاموش تھا، بحر الکاہل کی "رنگ آف فائر” نامی پٹی پر واقع ہے جہاں ٹیکٹونک پلیٹوں کے ٹکراؤ کے باعث آتش فشاں اور زلزلے معمول ہیں۔ اگرچہ اس خطے میں چھوٹے پیمانے پر آتش فشاں پھٹنا عام ہے، لیکن جان لیوا واقعات کم ہی پیش آتے ہیں۔ یہ واقعہ ان ہزاروں لوگوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے جو فعال آتش فشاں پہاڑوں کے دامن میں آباد ہیں۔
ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم زلزلے کے جھٹکے اور راکھ کے ڈھیر امدادی کاموں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر خوراک اور طبی سامان متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا ہے۔ وایان سوسیلا کے مطابق، ہماری اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور بے گھر ہونے والوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔</blockquote>
