بیجنگ نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر امریکی حکمت عملی دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک خطرناک موڑ پر لے آئی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے بائیڈن انتظامیہ پر واضح کیا ہے کہ وہ تائیوان کے معاملے پر کسی بھی قسم کی مداخلت کو اپنی خودمختاری پر حملہ سمجھتے ہیں۔
یہ بیان دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا عکاس ہے۔ بیجنگ کے لیے تائیوان کا معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ ہے، جبکہ واشنگٹن اسے انڈو پیسیفک خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور اتحادیوں کے تحفظ کا کلیدی حصہ مانتا ہے۔ اس کشیدگی کا سیدھا اثر عالمی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ خطے میں موجود سیمی کنڈکٹر سپلائی چینز پوری دنیا کی ٹیکنالوجی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
امریکی حکام کا موقف ہے کہ ان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ "ون چائنا” پالیسی کے ساتھ ساتھ تائیوان کو دفاعی صلاحیت دینے کے پابند ہیں۔ تاہم، بیجنگ اسے ایک دوغلی پالیسی قرار دیتا ہے۔ چینی قیادت کا ماننا ہے کہ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی اور اعلیٰ سطحی سفارتی دورے دراصل آزادی پسند عناصر کی حوصلہ افزائی اور چین کی علاقائی سالمیت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
صدر شی کا یہ پیغام واشنگٹن کے لیے ایک سخت انتباہ ہے۔ انہوں نے تعلقات کو "خطرناک” قرار دے کر گیند بائیڈن انتظامیہ کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔ بیجنگ کا اشارہ صاف ہے: اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کی ذمہ داری اب امریکہ پر عائد ہوگی۔
بائیڈن انتظامیہ اس وقت ایک مشکل دواہے پر کھڑی ہے۔ اگر وہ پیچھے ہٹتے ہیں تو جاپان اور فلپائن جیسے ایشیائی اتحادیوں کا اعتماد مجروح ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر وہ موجودہ حکمت عملی پر قائم رہتے ہیں تو براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کے نتائج کا تصور بھی عالمی منڈیوں کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔
سفارتی سطح پر یہ تلخی اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ الفاظ کی یہ جنگ جلد ہی عملی محاذ آرائی میں نہ بدل جائے۔ اب سوال یہ نہیں کہ تعلقات بہتر کیسے ہوں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں طاقتیں اس ٹوٹ پھوٹ کو روک پائیں گی یا نہیں۔
