آج 14 مئی 2026 کو اوپن مارکیٹ میں کویتی دینار نے روپے کے مقابلے میں تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ کراچی اور لاہور کے صرافہ بازاروں میں ایک دینار کی قیمت 918 روپے 50 پیسے تک جا پہنچی ہے، جو گزشتہ ہفتے کے اختتام کے مقابلے میں ایک بڑی اور اچانک جست ہے۔
سمندر پار پاکستانیوں کے لیے یہ خبر بظاہر خوش آئند نظر آتی ہے لیکن مقامی خاندانوں کے لیے صورتحال اس کے برعکس ہے۔ خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کی صورت میں موصول ہونے والی رقم کی مالیت تو بڑھ گئی ہے، مگر ملک میں جاری بے لگام مہنگائی نے اس اضافے کا اثر مکمل طور پر زائل کر دیا ہے۔ عام آدمی کے لیے اب زیادہ روپے ملنے کے باوجود قوتِ خرید میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
کرنسی ڈیلرز اس صورتحال کی بڑی وجہ انٹر بینک مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی کی کمی اور درآمد کنندگان کی جانب سے بڑھتی ہوئی طلب کو قرار دے رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے اپنائی گئی سخت پالیسی کے باعث مارکیٹ میں سپلائی کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔
کراچی کی آئی آئی چندریگر روڈ پر کام کرنے والے ایک سینیئر کرنسی ڈیلر نے بتایا، "مارکیٹ میں اس وقت صرف سٹہ بازی نہیں ہو رہی بلکہ یہ رسد اور طلب کا حقیقی بحران ہے۔ بینک بڑے لین دین کلیئر کرنے میں غیر معمولی وقت لے رہے ہیں، جس کا سارا دباؤ اوپن مارکیٹ پر منتقل ہو رہا ہے۔”
انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے ریٹس میں بڑھتا ہوا فرق بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی بینکنگ چینلز کے بجائے بہت سے لوگ ایک بار پھر غیر رسمی ذرائع (ہونڈی و حوالہ) کی طرف مائل ہو رہے ہیں تاکہ بہتر ریٹ حاصل کر سکیں۔ یہ رجحان مرکزی بینک کے لیے ترسیلاتِ زر کو دستاویزی شکل دینے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ملک میں برآمدات کے ذریعے ڈالر کی آمد نہیں بڑھتی یا غیر ملکی سرمایہ کاری کی کوئی بڑی لہر نہیں آتی، روپے کی قدر کو مستحکم کرنا ناممکن رہے گا۔ کویتی دینار کی موجودہ قیمت دراصل روپے کی کمزوری کا وہ اشاریہ ہے جو معیشت کے دیگر شعبوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
آج کاروبار کے اختتام پر مارکیٹ کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ دینار کی قیمت میں اضافے کا یہ سلسلہ ابھی تھمنے والا نہیں۔ فی الحال عوام اور کاروباری طبقے کے لیے واحد حقیقت یہی ہے کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر کے ساتھ جینے کا خرچ مزید بڑھنے والا ہے۔
