اسلام آباد، 24 مئی: پاکستان سمیت 8 عرب اور مسلم ممالک نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کی جانب سے غزہ امدادی فلوٹیلا کے زیر حراست کارکنوں کے ساتھ “انتہائی قابلِ مذمت، توہین آمیز اور ناقابلِ قبول” رویے کی شدید مذمت کی ہے۔
مشترکہ بیان پاکستان، سعودی عرب، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ انسانی امداد لے جانے والے کارکنوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک انسانی وقار کی کھلی توہین اور بین الاقوامی انسانی و انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یہ ردعمل اس ویڈیو کے بعد سامنے آیا جس میں اتمار بن گویر کو غزہ جانے والی امدادی فلوٹیلا کے حراست میں لیے گئے کارکنوں کے سامنے اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز انداز اپناتے دیکھا گیا۔ کارکن گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے، جو غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے کی کوشش کر رہی تھی، تاہم اسرائیلی حکام نے اسے روک کر متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
مشترکہ بیان میں 8 ممالک نے کہا کہ امدادی کارکنوں کی تذلیل نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ یہ غزہ کے لیے انسانی امداد پہنچانے کی کوششوں کے خلاف اسرائیلی رویے کی ایک اور مثال بھی ہے۔ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تمام زیر حراست افراد کے قانونی حقوق، سلامتی اور انسانی وقار کا احترام کرے۔
اس معاملے نے عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ یورپی کمیشن نے غزہ فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر زیر حراست شخص کے ساتھ بین الاقوامی قانون کے مطابق عزت اور وقار سے پیش آنا ضروری ہے۔
فرانس نے اس واقعے کے بعد اتمار بن گویر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے ویڈیوز میں دکھائے گئے رویے کو “ناقابلِ بیان” قرار دیا اور یورپی یونین سے بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کرنے کا مطالبہ کیا۔ پولینڈ بھی اسرائیلی وزیر پر پانچ سالہ داخلہ پابندی لگا چکا ہے۔
پاکستان اس سے قبل بھی غزہ فلوٹیلا کے کارکنوں کی حراست اور مبینہ بدسلوکی کی مذمت کر چکا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا تھا کہ فلوٹیلا میں شامل پاکستانی سماجی کارکن سعد ایدھی کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے “غیر قانونی حراست” کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی جیل سروس نے کارکنوں پر تشدد کے الزامات کی تردید کی ہے، تاہم بن گویر کی ویڈیو اور ان کا سخت گیر سیاسی پس منظر اس معاملے کو مزید متنازع بنا رہا ہے۔ بعض زیر حراست کارکنوں نے بدسلوکی اور جسمانی تشدد کے الزامات لگائے ہیں، جنہیں اسرائیلی حکام نے مسترد کیا ہے۔
پاکستان اور دیگر 7 ممالک کے نزدیک یہ معاملہ صرف ایک ویڈیو یا ایک وزیر کے رویے تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق یہ غزہ میں انسانی بحران کے دوران امدادی کوششوں کو دبانے، کارکنوں کو خوفزدہ کرنے اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کی تضحیک کا حصہ ہے۔
مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل زیر حراست امدادی کارکنوں کی تذلیل بند کرے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے اور غزہ تک انسانی امداد کی محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائے۔
