لاہور: عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی لاہور کی مویشی منڈیوں میں رش تو بڑھ گیا ہے، مگر خریداری کی روایتی گہما گہمی اس بار نمایاں طور پر ماند پڑ گئی ہے۔ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے باعث بیشتر شہری صرف جانور دیکھ کر، قیمت پوچھ کر اور بھاؤ تاؤ کر کے واپس جا رہے ہیں۔
شہر کی مستقل شاہ پور کانجراں مویشی منڈی کے ساتھ ساتھ سگیان، واہگہ اسپورٹس کمپلیکس، برکی روڈ، ایل ڈی اے سٹی اور رائے ونڈ میں قائم عارضی سیل پوائنٹس پر بھی شہریوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے۔ تاہم بیوپاریوں کے مطابق رش کے باوجود فروخت توقع کے مطابق نہیں ہو رہی، کیونکہ خریدار آخری دنوں میں قیمتیں کم ہونے کی امید پر ابھی خریداری مؤخر کر رہے ہیں۔
اس سال چھوٹے بکروں کی قیمتیں بھی عام خریدار کی پہنچ سے باہر دکھائی دے رہی ہیں۔ منڈیوں میں چھوٹے بکرے عموماً 60 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک بتائے جا رہے ہیں، جبکہ درمیانے سائز کے بکرے اور دنبے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ صحت مند اور خوبصورت جانوروں کے نرخ اس سے بھی زیادہ ہیں، اور اچھے بکرے ڈھائی لاکھ روپے یا اس سے اوپر فروخت کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔
بڑے جانور خریدنے والوں کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں۔ اوسط درجے کی گائے کی قیمت ڈیڑھ لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے کے درمیان بتائی جا رہی ہے، جبکہ بڑے بیل تین لاکھ سے چھ لاکھ روپے تک فروخت کے لیے موجود ہیں۔ اونٹوں کی قیمت تقریباً پانچ لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بعض نمایاں اور بھاری بھرکم بیلوں کی قیمتیں 80 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک بھی لگائی جا رہی ہیں۔
خریداروں کا کہنا ہے کہ قربانی کرنا اب پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔ کئی شہری منڈیوں میں مختلف جانور دیکھتے ہیں، نرخ معلوم کرتے ہیں، کچھ دیر بھاؤ تاؤ کرتے ہیں اور پھر خریداری کیے بغیر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق عام جانوروں کی قیمتیں بھی اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ متوسط طبقے کے لیے اکیلے جانور خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔
دوسری جانب بیوپاری قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار چارے، ٹرانسپورٹ، ایندھن اور جانوروں کی دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جانور کئی ماہ تک پالے جاتے ہیں، پھر انہیں دور دراز علاقوں سے لاہور لایا جاتا ہے، اس لیے اخراجات پورے کیے بغیر فروخت ممکن نہیں۔
پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے مطابق لاہور کی منڈیوں میں خریداروں اور بیوپاریوں کے لیے مخصوص جگہ، شیڈز، ویٹرنری سہولتیں، خشک چارے کی دکانیں اور دیگر انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاہم سہولتوں کے باوجود اصل مسئلہ قیمتوں کا ہے، جس نے اس بار عید کی خریداری کا جوش کافی حد تک ٹھنڈا کر دیا ہے۔
فی الحال لاہور کی مویشی منڈیوں میں رش موجود ہے، آوازیں بھی لگ رہی ہیں، بھاؤ تاؤ بھی جاری ہے، مگر خریداری کا وہ زور دکھائی نہیں دے رہا جو عیدالاضحیٰ سے پہلے عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خریدار قیمتیں کم ہونے کے منتظر ہیں، جبکہ بیوپاری بہتر دام ملنے کی امید میں ڈٹے ہوئے ہیں۔
