کراچی — آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے حق میں ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد ملک میں ایندھن کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسوسی ایشن کے اعلامیے کے مطابق، 22 جولائی کی رات 12 بجتے ہی ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے۔ یہ اعلان وزیرِ مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کی مکمل ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز اور حکومت کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور منافع کے مارجن میں اضافے کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
ایسوسی ایشن نے ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس ہڑتال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، آپس میں متحد رہیں اور پرامن احتجاج کو یقینی بنائیں۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کرتی اور کوئی قابلِ قبول فیصلہ سامنے نہیں آتا، تب تک یہ ملک گیر ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔ واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ذریعے پیٹرول اور ڈیژل کی قیمتیں پندرہ روزہ یا ہفتہ وار بنیادوں کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کرنے کا نیا نظام نافذ کیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کو فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں منتقل کیا جا سکے۔ تاہم، پیٹرول پمپ مالکان کا مؤقف ہے کہ روزانہ قیمتوں کے بدلنے اور کم منافع کی وجہ سے انہیں شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
