بھارت کے نجی شعبے کے بڑے قرض دہندگان میں شامل ایکسس بینک چوتھی سہ ماہی میں منافع کے حوالے سے مارکیٹ کی توقعات پوری نہ کر سکا۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق بینک نے Q4 FY26 میں تقریباً 7,071 کروڑ روپے خالص منافع رپورٹ کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کمی دکھاتا ہے۔
نتائج پر سب سے زیادہ دباؤ کمزور ٹریڈنگ آمدن اور زیادہ پروویژنز کی وجہ سے آیا۔ اکانومک ٹائمز اور دیگر مالیاتی رپورٹوں کے مطابق بینک کی بنیادی بینکاری سرگرمیوں میں استحکام رہا، لیکن ٹریڈنگ میں کمزوری اور اضافی احتیاطی بفر نے مجموعی منافع کو نیچے کھینچ لیا۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بینک نے مغربی ایشیا کی کشیدگی سے جڑے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر ایک وقتی بفر بھی رکھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بنیادی کاروبار پوری طرح کمزور نہیں پڑا۔ موجودہ کوریج کے مطابق بینک کی انٹرسٹ انکم 32,724 کروڑ روپے تک پہنچی، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ قرضہ جاتی اور روایتی بینکاری سرگرمیوں میں بڑھوتری جاری رہی۔ مگر اس بار کور بینکنگ کی یہ مضبوطی ٹریژری یا ٹریڈنگ سائیڈ کی کمزوری کا پورا بوجھ نہیں اٹھا سکی۔
اسی کے ساتھ بینک کے بورڈ نے تقریباً 2 ارب ڈالر کی ایکویٹی فنڈ ریزنگ کی منظوری بھی دے دی۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق یہ منصوبہ بڑے سرمائے کے انتظام کا حصہ ہے، جس کا مقصد بیلنس شیٹ کو مضبوط بنانا اور مستقبل کی ترقی کے لیے گنجائش پیدا کرنا ہے۔ کچھ رپورٹس میں وسیع تر فنڈ ریزنگ پلان میں قرض اور ایکویٹی دونوں کا ذکر بھی آیا، مگر موجودہ توجہ خاص طور پر ایکویٹی حصے پر ہے۔
اس خبر کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ایکسس بینک اب بھی ترقی کی راہ پر ہے، لیکن حالیہ سہ ماہی نے دکھا دیا کہ ٹریڈنگ انکم میں اتار چڑھاؤ اور پروویژننگ کے فیصلے بڑے بینکوں کے نتائج کا تاثر فوری طور پر بدل سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک ملا جلا سگنل ہے: بنیادی کاروبار ٹھیک ہے، مگر منافع پر دباؤ ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہ آخری تجزیہ دستیاب مالیاتی رپورٹنگ کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔
