کراچی میں پانی کی قلت کا بحران منگل کی شام اس وقت کچھ کم ہوا جب کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) نے 48 گھنٹے طویل مرمتی کام کے بعد شہر کے کچھ حصوں میں پانی کی فراہمی جزوی طور پر بحال کر دی۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے پیچیدہ نیٹ ورک میں پانی کا مکمل پریشر بحال ہونے میں مزید وقت لگے گا۔
یہ بڑے پیمانے پر مرمتی آپریشن اتوار کو شروع کیا گیا تھا، جس کا مرکز ڈھابے جی پمپنگ اسٹیشن تھا—جو شہر کی پانی کی فراہمی کا مرکزی ذریعہ ہے۔ انجینئرز کے مطابق، 72 انچ قطر والی مرکزی لائن پر بوسیدہ والوز کی تبدیلی اور ایک بڑی لیک کو ٹھیک کرنا ناگزیر تھا، جس سے روزانہ لاکھوں گیلن پانی ضائع ہو رہا تھا۔
سائٹ پر موجود واٹر بورڈ کے ایک سینئر انجینئر نے میڈیا کو بتایا کہ "ہم نے ویلڈنگ اور والو کی تنصیب کا کام طے شدہ وقت سے پہلے مکمل کر لیا ہے۔” انہوں نے دو روزہ بندش سے شہریوں کو ہونے والی مشکلات کا اعتراف تو کیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اگر بروقت مرمت نہ کی جاتی تو پائپ لائن مکمل طور پر پھٹ سکتی تھی۔
اگرچہ مرکزی پمپنگ اسٹیشن دوبارہ فعال ہو چکا ہے، لیکن عام شہریوں کے لیے سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا یہ بوسیدہ انفراسٹرکچر مزید دباؤ برداشت کر سکے گا؟ پانی کو گھروں تک پہنچنے کے لیے میلوں طویل خستہ حال پائپ لائنوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ضلع غربی اور ضلع وسطی کے کچھ علاقوں میں پانی کا پریشر بدھ کی دوپہر تک ہی معمول پر آنے کی توقع ہے۔
دو روزہ بندش کے دوران لاکھوں کراچی والے پرائیویٹ ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر رہے۔ اس دوران ٹینکرز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا، جس سے شہریوں پر اضافی مالی بوجھ پڑا۔ یہ صورتحال شہر میں پانی کے غیر رسمی اور اکثر منافع خور نیٹ ورک پر انحصار کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
واٹر بورڈ کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مرمت سے پانی کی فراہمی قلیل مدت کے لیے مستحکم ہو جائے گی، تاہم ماہرینِ آبی امور اس بارے میں محتاط ہیں۔ شہر کی پرانی پائپ لائنیں آئے روز لیک ہونے کا شکار رہتی ہیں، اور جب تک مرکزی ڈسٹری بیوشن لائنوں کا مکمل اوور ہالنگ نہیں کیا جاتا، شہریوں کو ایسی قلت کا سامنا بار بار کرنا پڑے گا۔
فی الحال پانی کی فراہمی بحال ہو چکی ہے۔ لیکن یہ نظام کب تک قائم رہے گا، اس کا انحصار شہر کے صدی پرانے پائپ نیٹ ورک کی اس صلاحیت پر ہے جو بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کو برداشت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
