راولپنڈی کے مصروف ترین کچہری چوک میں ’مرکہِ حق‘ یادگار کی تعمیر کا کام اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ شہر کے اس اہم عدالتی اور انتظامی مرکز میں واقع یہ یادگار اب چوک کے وسط میں ایک نمایاں شناخت بن کر ابھر رہی ہے۔
اس تعمیراتی منصوبے نے شہر کے ایک انتہائی گنجان چوک کی ہیئت بدل دی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے جاری کام کے دوران ٹریفک کے بہاؤ میں خلل اور متبادل راستوں کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا، تاہم اب یہ ڈھانچہ ایک مستقل حقیقت کا روپ دھار چکا ہے، جس نے روزانہ یہاں سے گزرنے والے ہزاروں مسافروں کے لیے راستوں کے تعین کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ یادگار علاقے کی تاریخی اور قانونی اہمیت کی علامت ہے، لیکن عوامی سطح پر اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ شہری اسے شہر کے ایک بے رنگ چوک میں خوشگوار اضافہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ اس جگہ کو ٹریفک کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا زیادہ بہتر تھا۔
قریبی ڈسٹرکٹ کورٹس میں پریکٹس کرنے والے ایک وکیل نے کہا کہ "ہمیں یہاں بہتر ٹریفک مینجمنٹ کی ضرورت تھی، نہ کہ مزید کنکریٹ کے ڈھانچوں کی۔” ان کا کہنا تھا کہ یادگار بلاشبہ دیکھنے میں متاثر کن ہے، لیکن یہ ان ٹریفک جامز کو ختم کرنے میں کوئی مدد نہیں دیتی جو کچہری چوک کی روزمرہ کی پہچان بن چکے ہیں۔
اس یادگار کا ڈیزائن خطے کی قانونی اور تاریخی روایات کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹھیکیدار اس وقت پتھروں کی تنصیب اور روشنیوں کا کام مکمل کر رہے ہیں، اور حکام رواں ماہ کے آخر میں اس کی باقاعدہ نقاب کشائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
تعمیراتی کام جاری رہنے کے باوجود، یہ یادگار اب علاقے کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ شہر کی ایک پسندیدہ علامت بنے گی یا ٹریفک سے تنگ شہریوں کے لیے تنقید کا مرکز، لیکن ایک بات طے ہے کہ اس نے کچہری چوک کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا ہے۔
اب جبکہ اس کے گرد نصب ڈھانچے ہٹائے جا رہے ہیں، شہر کو ایک نیا مرکز تو مل گیا ہے، مگر یہ بحث اب بھی جاری ہے کہ آیا راولپنڈی کی شہری ترجیحات ان لوگوں کے ویژن سے مطابقت رکھتی ہیں جنہوں نے اسے تعمیر کروایا ہے۔
