سان فرانسسکو — جنوبی کوریا نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی چپس کی شدید قلت کو دور کرنے کے لیے سیمسنگ الیکٹرانکس، ایس کے گروپ اور امریکی ٹیک کمپنیوں کے اشتراک سے 950 ارب ڈالر کے نئے تاریخی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ سان فرانسسکو میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی میزبانی میں منعقدہ ایک خصوصی مصنوعی ذہانت سمٹ کے بعد صدارتی دفتر ‘بلیو ہاؤس’ نے ان معاہدوں کی تصدیق کی۔ اس موقع پر صدر لی نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے مابین جدید تکنیکی تعاون کے فروغ کے لیے "سان فرانسسکو آرٹیفیشل انٹیلیجنس ڈیکلریشن” کا بھی افتتاح کیا۔ سمٹ کے دوران انہوں نے این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ، اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین اور اینتھروپک کے ڈاریو اموڈی جیسے عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کیں۔
معاہدوں کی تفصیلات کے مطابق، ایس کے گروپ نے مجموعی طور پر 750 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جس میں ایس کے ہائنکس اور این ویڈیا کے درمیان 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی شراکت داری شامل ہے۔ اس کے تحت این ویڈیا کے لیے نیکسٹ جنریشن ہائی بینڈوڈتھ میموری چپس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، جبکہ ایس کے ٹیلی کام 2027 تک ایک جدید 2 گیگا واٹ کا ڈیٹا سینٹر قائم کرے گا۔ دوسری جانب سیمسنگ الیکٹرانکس نے براڈکام کے ساتھ 200 ارب ڈالر کے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت وہ ایڈوانسڈ پیکیجنگ اور 2 نینو میٹر سے بھی کم کے فاؤنڈری پراسیس پر مل کر کام کریں گے۔ ایس کے گروپ کے چیئرمین چے تائے وون کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی بڑی کمپنیاں مستقبل کے ماڈلز کے لیے توقعات سے کہیں زیادہ کمپیوٹنگ پاور اور چپس کا تقاضا کر رہی ہیں، جس کے لیے یہ بڑے معاہدے ناگزیر ہو چکے تھے۔
