یہ ٹکراؤ اب کسی اشارے یا پس منظر تک محدود نہیں رہا۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بڑے عالمی مالیاتی اداروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سرگرمیوں سے پیچھے ہٹیں اور اپنی وہی “بنیادی ذمہ داریاں” سنبھالیں جن کے لیے وہ اصل میں قائم کیے گئے تھے۔ سرکاری بیانات میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اپنی اصل سمت سے ہٹ گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں جنوری میں امریکی محکمۂ خزانہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ فوری طور پر گرین کلائمیٹ فنڈ سے الگ ہو رہا ہے، اور بیسنٹ نے واضح کیا کہ واشنگٹن نہ صرف اس ادارے کی مالی معاونت بند کرے گا بلکہ اس کے بورڈ میں اپنی نشست بھی چھوڑ دے گا۔
یہ تو پالیسی کا رخ ہے۔ مگر سائنس کا رخ اس سے مختلف ہے۔ ناسا کے مطابق شواہد واضح طور پر یہ بتاتے ہیں کہ انسانی سرگرمیاں، خاص طور پر فوسل فیول جلانے کا عمل، زمین اور سمندروں کے درجۂ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ صدی میں درجۂ حرارت میں جو اضافہ دیکھا گیا، وہ بہت زیادہ امکان کے ساتھ انسانی سرگرمیوں ہی کا نتیجہ ہے۔ ناسا سائنسی تحقیق کے خلاصے میں یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلی پر سائنسی اتفاقِ رائے بہت مضبوط ہے۔
اسی لیے اصل تنازع صرف بجٹ، ترجیحات یا ادارہ جاتی دائرۂ کار کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موسمیاتی تبدیلی کو ایک بنیادی معاشی خطرہ سمجھا جائے گا، یا اسے ایک غیر ضروری اضافی موضوع بنا کر کنارے لگا دیا جائے گا۔ بیسنٹ کا مؤقف یہ رہا ہے کہ کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کو زیادہ توجہ میکرو اکنامک استحکام، غربت میں کمی اور روایتی ترقیاتی اہداف پر دینی چاہیے۔ لیکن ناقدین کے نزدیک یہ تقسیم مصنوعی ہے، کیونکہ موسمیاتی جھٹکے پہلے ہی معیشت، قرضوں، خوراک کے نظام، انشورنس منڈیوں اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کر رہے ہیں۔
اسی وجہ سے یہ بحث واشنگٹن کے اندرونی الفاظی کھیل سے کہیں بڑی بن جاتی ہے۔ جب امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر موسمیاتی ایجنڈا محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں، تو وہ صرف بیان نہیں بدل رہے ہوتے بلکہ یہ بھی طے کر رہے ہوتے ہیں کہ دنیا کے طاقتور ترین مالیاتی ادارے کس مسئلے کو فوری، قابلِ سرمایہ کاری اور حقیقی خطرہ مانیں گے۔ اور جب ایسی ترجیحات بدلتی ہیں تو اس کے اثرات خاص طور پر ان غریب ممالک تک تیزی سے پہنچتے ہیں جو پہلے ہی شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور توانائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
بیسنٹ کے مؤقف کے پیچھے یقیناً ایک سیاسی منطق بھی موجود ہے۔ امریکی انتظامیہ “سستی اور قابلِ اعتماد توانائی” کو معاشی ترقی اور غربت میں کمی کی بنیاد کے طور پر پیش کر رہی ہے، اور وہ ان بین الاقوامی موسمیاتی نظاموں سے واضح طور پر محتاط نظر آتی ہے جنہیں وہ ضرورت سے زیادہ نظریاتی یا حد سے بڑھی ہوئی مداخلت سمجھتی ہے۔ یہ پیغام ان لوگوں کو اپیل کر سکتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارے بہت زیادہ پھیل گئے ہیں۔ مگر یہاں ایک مسئلہ ایسا ہے جو سیاست سے متاثر نہیں ہوتا: سائنس نے خود کو سیاست کے مطابق نہیں بدلا، بلکہ سیاست نے سائنس سے دوری اختیار کی ہے۔
