لاہور قلندرز نے بالآخر اپنی مسلسل ناکامیوں کا سلسلہ توڑ دیا اور کراچی میں کھیلے گئے پی ایس ایل 2026 کے 27ویں میچ میں راولپنڈیز کو 32 رنز سے شکست دے کر نہ صرف اہم فتح حاصل کی بلکہ حریف ٹیم کو ٹورنامنٹ سے بھی باہر کر دیا۔ لاہور نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 4 وکٹ پر 210 رنز بنائے، جواب میں راولپنڈیز 9 وکٹ پر 178 رنز تک ہی پہنچ سکی۔
میچ کا رخ ابتدا ہی میں بدل گیا تھا۔ فخر زمان اور محمد فاروق نے اوپننگ شراکت میں صرف 10.5 اوورز میں 121 رنز جوڑ کر لاہور کو وہ پلیٹ فارم دیا جس کی اسے سخت ضرورت تھی۔ فاروق نے 41 گیندوں پر 63 رنز بنائے، جس میں پانچ چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے، جبکہ فخر زمان نے 54 گیندوں پر 84 رنز کی اننگز کھیل کر پورے مقابلے پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔

لاہور کی اننگز میں اصل فرق صرف رنز کی تعداد نہیں بلکہ رفتار تھی۔ ایک ٹیم جو پچھلے چند میچوں میں دباؤ میں دکھائی دے رہی تھی، اس بار شروع ہی سے آزاد انداز میں کھیلی۔ فاروق نے پاور پلے میں حملہ کیا، پھر فخر نے اننگز کو سنبھالے رکھا اور آخر تک اسکور کو اس حد تک پہنچا دیا جہاں راولپنڈیز کے لیے واپسی آسان نہیں رہی۔ عبداللہ شفیق کے 26 رنز اور آخر میں آصف علی کے مختصر مگر تیز رفتار کیمیو نے لاہور کو 210 تک پہنچانے میں مدد دی۔
راولپنڈیز کے لیے تعاقب کا آغاز ہی زیادہ مضبوط نہیں تھا۔ کپتان محمد رضوان جلد آؤٹ ہو گئے اور دباؤ شروع سے محسوس ہوتا رہا۔ یاسر خان نے ضرور 24 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی اور 58 رنز بنا کر ایک موقع پیدا کیا، لیکن دوسری جانب وکٹیں گرتی رہیں۔ 15ویں اوور تک اسکور 7 وکٹ پر 125 ہو چکا تھا، اور اسی مقام پر میچ حقیقتاً لاہور کے قبضے میں چلا گیا۔
اختتامی اوورز میں سعد مسعود نے 26 گیندوں پر 54 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر شکست کا فرق کچھ کم ضرور کیا، لیکن نتیجہ بدلنے کے لیے وہ مزاحمت بہت دیر سے آئی۔ یہی بات اس میچ کو راولپنڈیز کے لیے اور زیادہ مایوس کن بناتی ہے: ہدف بڑا تھا، مگر ناممکن نہیں۔ اصل مسئلہ یہ رہا کہ تعاقب میں ان کی اننگز کبھی مکمل طور پر ترتیب نہیں پکڑ سکی۔
اس شکست کے بعد راولپنڈیز کی مہم عملاً ختم ہو گئی۔ رپورٹوں کے مطابق ٹیم اب تک ایک بھی میچ نہیں جیت سکی تھی، اور اس ناکامی نے اس کے اخراج پر مہر ثبت کر دی۔ لاہور کے لیے، اس کے برعکس، یہ جیت صرف دو پوائنٹس نہیں بلکہ ایک نفسیاتی راحت بھی ہے۔ ایک خراب سلسلے کے بعد انہیں ایسا میچ ملا جس میں بیٹنگ چلی، دباؤ کم ہوا، اور نتیجہ بھی ساتھ آیا۔
لاہور قلندرز اب اس فتح کو ٹرننگ پوائنٹ بنانے کی کوشش کریں گے، کیونکہ ان کے پاس کم از کم یہ اشارہ ضرور آ گیا ہے کہ اگر اوپر کا آرڈر چل پڑے تو وہ اب بھی کسی بھی حریف پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ راولپنڈیز کے لیے، مگر، یہ رات ایک اور شکست سے بڑھ کر تھی۔ یہ ان کے سیزن کے اختتام کی رات تھی۔
