نئی دہلی: کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں دہلی کیپیٹلز کو آٹھ وکٹوں سے ہرا کر نہ صرف ایک اہم کامیابی حاصل کی بلکہ اپنے پلے آف امکانات کو بھی مضبوط کر لیا۔ اس میچ میں فن ایلن نے صرف 47 گیندوں پر ناقابلِ شکست سنچری اسکور کی اور 143 رنز کا ہدف کے کے آر نے آسانی سے حاصل کر لیا۔ یہ کولکتہ کی مسلسل چوتھی جیت تھی، جب کہ دہلی کی مہم کو ایک اور بڑا دھچکا پہنچا۔
دہلی کی اننگز شروع میں اتنی خراب نہیں لگ رہی تھی۔ پاتھم نسانکا نے تیز رفتار نصف سنچری کے ذریعے ایک بنیاد دینے کی کوشش کی، مگر اس کے بعد کولکتہ کے اسپنرز نے میچ کا رخ بدل دیا۔ درمیانی اوورز میں سنچری پارٹنرشپ یا آخری جھٹکا لگانے کے بجائے دہلی کی بیٹنگ بکھر گئی اور ٹیم 20 اوورز میں 142 رنز پر 8 وکٹیں ہی بنا سکی۔ رپورٹس کے مطابق کے کے آر کے اسپن اٹیک نے دہلی کو مسلسل دباؤ میں رکھا اور وہ کھل کر کھیل ہی نہ سکے۔
اس کے بعد فن ایلن نے تعاقب کو ایک طرفہ بنا دیا۔ انہوں نے آغاز ہی سے دہلی کے بولرز، خاص طور پر اسپنرز، پر حملہ کیا اور ہدف کو کبھی مشکل بننے نہیں دیا۔ ایلن کی یہ سنچری ان کی پہلی آئی پی ایل سنچری تھی، اور وہ اسے صرف 47 گیندوں میں مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہی اننگز اصل فرق ثابت ہوئی؛ ایک ایسی پچ پر جہاں دہلی کے بلے باز رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے رہے، وہاں ایلن نے میچ کو تقریباً نمائشی انداز میں ختم کیا۔
کے کے آر نے ہدف حاصل کرتے وقت صرف دو وکٹیں گنوائیں اور جیت کا مارجن اتنا واضح تھا کہ دہلی کو واپسی کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس فتح نے کولکتہ کی نیٹ رن ریٹ اور پوائنٹس ٹیبل، دونوں حوالوں سے پوزیشن بہتر کی، جبکہ دہلی کے لیے پلے آف کی دوڑ مزید پیچیدہ ہو گئی۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق اس شکست کے بعد دہلی پر ایلیمینیشن کا خطرہ اور بڑھ گیا ہے۔
کولکتہ کے لیے یہ صرف دو پوائنٹس نہیں تھے۔ یہ ایک بیان تھا۔ سیزن کے آخری حصے میں جب اکثر ٹیمیں دباؤ میں ٹوٹتی ہیں، کے کے آر نے الٹا رفتار پکڑ لی ہے۔ مسلسل چار فتوحات، اسپن بولنگ کی مضبوط کارکردگی، اور اب فن ایلن کی دھماکے دار سنچری — یہ سب اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ کولکتہ ابھی دوڑ سے باہر نہیں، بلکہ خطرناک انداز میں واپس آ چکی ہے۔
