واشنگٹن: امریکا میں خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کے واقعات نے کئی معروف ریسٹورنٹ چینز کے کاروبار کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں بعض کمپنیوں کو مصنوعات واپس لینے، قانونی مقدمات اور سخت ریگولیٹری نگرانی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ صارفین کی آمد اور فروخت میں بھی کمی دیکھی گئی۔
برریٹو ریسٹورنٹ چین چلانے والی کمپنی چپوٹلے میکسیکن گرِل نے 4 اگست کو اعلان کیا کہ اس نے ریاست مینیسوٹا سمیت ان تمام مقامات سے جالپینو مرچیں ہٹا دی ہیں جہاں ممکنہ طور پر متاثرہ کھیپ فراہم کی گئی تھی۔ حکام کی جانب سے ان مرچوں کو سالمونیلا کے پھیلاؤ کی جاری تحقیقات میں ممکنہ ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
سالمونیلا کی تحقیقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا میں خوراک کے تحفظ سے متعلق خدشات پہلے ہی بڑھ رہے ہیں۔ اس سے قبل ٹیکو بیل کے ریسٹورنٹس میں فراہم کیے جانے والے آئس برگ لیٹش کو ایک پرجیوی بیماری سائکلو اسپورائیسس کے پھیلاؤ سے جوڑا گیا تھا، جبکہ چپوٹلے کے ماضی میں پیش آنے والے خوراک سے متعلق واقعات بھی دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے واقعات کا کاروباری اثر ہر کمپنی کے لیے مختلف رہا ہے۔ آر بی سی کیپیٹل مارکیٹس کے تجزیہ کاروں نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ سائکلو اسپورائیسس کے پھیلاؤ اور مینیسوٹا میں سالمونیلا کے کیسز سے منسلک جالپینو مرچیں ہٹانے کے فیصلے سے چپوٹلے کے حوالے سے خوراک کے تحفظ سے متعلق خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ٹی ڈی کوئن کے تجزیہ کاروں کے مطابق 2024 کے اواخر میں میک ڈونلڈز کو درپیش اسی نوعیت کے خوراک سے متعلق مسئلے کا اثر تقریباً ایک سہ ماہی تک محدود رہا، جبکہ 2022 میں وینڈیز سے متعلق واقعے کا کمپنی کے کاروبار پر نمایاں اثر سامنے نہیں آیا۔
تاہم ماضی کے بعض بڑے واقعات نے ریسٹورنٹ کمپنیوں کی فروخت کو شدید متاثر کیا۔ 2015 میں چپوٹلے میکسیکن گرِل میں پیش آنے والے فوڈ سیفٹی بحران اور 1993 میں جیک اِن دی باکس سے متعلق وبا کے بعد دونوں کمپنیوں کی فروخت کئی سہ ماہیوں تک نمایاں طور پر متاثر ہوئی تھی۔
ماہرین کے مطابق خوراک کے تحفظ سے متعلق واقعات نہ صرف صارفین کے اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ کمپنیوں کو مصنوعات واپس لینے، تحقیقات، قانونی کارروائی اور اضافی حفاظتی اقدامات کی صورت میں مالی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
