پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کا دن سرمایہ کاروں کے لیے بھاری ثابت ہوا، جہاں بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 3,078.56 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ کے بعد 92,673.81 پر بند ہوا۔ ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی فروخت کا دباؤ اتنا شدید تھا کہ انڈیکس سنبھلنے کا موقع ہی نہ پا سکا۔
سرمایہ کاروں نے ہر شعبے میں اپنے حصص فروخت کرنے میں عجلت دکھائی۔ مارکیٹ ویلیو میں چند گھنٹوں کے اندر اربوں روپے کا صفایا ہو گیا۔ اس گراوٹ کے پیچھے سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مرکزی بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات کارفرما رہے۔
مارکیٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ مالیاتی محاذ پر واضح پالیسی کا نہ ہونا اس گراوٹ کی بڑی وجہ ہے۔ انسٹیٹیوشنل انویسٹرز — جو عام طور پر مارکیٹ کو استحکام فراہم کرتے ہیں — خود فروخت کنندگان کی صف اول میں شامل رہے۔ ان کے پیچھے ہٹنے سے ریٹیل سرمایہ کاروں کے پاس سنبھلنے کا کوئی راستہ نہیں بچا اور ٹیکنیکل سپورٹ لیولز ریت کی دیوار کی طرح گر گئے۔
کراچی کے ایک بروکریج ہاؤس کے تجزیہ کار نے کہا کہ "مارکیٹ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ اوپر جا چکی تھی۔ کریکشن تو متوقع تھی، لیکن جس رفتار سے آج انڈیکس نیچے آیا ہے، اس نے بڑے بڑے ڈیسک کو حیران کر دیا ہے۔”
سب سے زیادہ نقصان توانائی اور بینکنگ کے شعبوں کو اٹھانا پڑا۔ سرمایہ کاروں نے حالیہ تیزی کے بعد منافع سمیٹنے کی کوشش کی، لیکن فروخت کا حجم بتاتا ہے کہ یہ محض منافع خوری نہیں بلکہ مارکیٹ کے مزاج میں ایک گہری تبدیلی ہے۔ بلند شرح سود کارپوریٹ منافع کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، اور اسٹیٹ بینک کے اگلے فیصلے کے پیش نظر خطرہ مول لینے کا جذبہ دم توڑ چکا ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کار، جو گزشتہ سہ ماہی میں پاکستانی اسٹکس میں کچھ دلچسپی لے رہے تھے، آج مکمل طور پر غیر فعال رہے۔ ان کی عدم موجودگی نے مقامی مارکیٹ کو اندرونی اتار چڑھاؤ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، جہاں ٹیکس اہداف اور آئی ایم ایف کی شرائط پر آنے والی ہر خبر مارکیٹ کے رخ کا تعین کر رہی ہے۔
اب ان نفسیاتی سطحوں کو ٹیسٹ کر رہا ہے جہاں تک پہنچنے میں اسے ہفتوں لگے تھے۔ بدھ کے روز مارکیٹ کا رخ کیا ہوگا؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کیا بڑے سرمایہ کار موجودہ قیمتوں کو پرکشش سمجھتے ہوئے دوبارہ میدان میں اتریں گے، یا آج کی یہ گھبراہٹ طویل مندی کا نقطہ آغاز ثابت ہوگی۔
