کراچی کی احتساب عدالت نے کلفٹن کے فلاحی پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق ریفرنس میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال سمیت 10 ملزمان کو طلب کر لیا ہے۔
عدالت نے تمام ملزمان کو اگلی سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ نیب کا الزام ہے کہ مصطفیٰ کمال نے بطور میئر کراچی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کمرشل اور رہائشی پلاٹس میں تبدیل کیا۔
یہ ریفرنس کلفٹن کے علاقے میں تقریباً 55 ہزار مربع گز زمین کی غیر قانونی منتقلی کے گرد گھومتا ہے۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین اصل میں میٹرنٹی ہوم اور دیگر فلاحی مقاصد کے لیے مخصوص تھی، جسے نجی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
مصطفیٰ کمال ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کے قانونی مشیروں کا موقف ہے کہ میئر شپ کے دوران زمین کی تمام منتقلی بلدیاتی قوانین کے مطابق ہوئی اور اس کے لیے متعلقہ ٹاؤن پلاننگ اتھارٹیز سے منظوری لی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیس سیاسی انتقام کا ایک حصہ ہے۔
کراچی میں زمینوں کے انتظام اور شہری منصوبہ بندی کے مسائل برسوں سے زیر بحث ہیں۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ریکارڈ اور گواہان کے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ضوابط کو نظر انداز کر کے نجی ڈویلپرز کو نوازا گیا۔
عدالت کی جانب سے طلبی کا یہ حکم ایسے وقت میں آیا ہے جب شہر میں عوامی مقامات اور انفراسٹرکچر کی شدید قلت ہے۔ مصطفیٰ کمال کے لیے یہ قانونی جنگ ان کی سیاسی سرگرمیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
احتساب عدالت نے نیب حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام ملزمان کو نوٹس کی تعمیل یقینی بنائی جائے۔ اگر ملزمان اگلی سماعت پر پیش نہ ہوئے تو عدالت ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر سکتی ہے۔
