اسلام آباد — انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے منگل کے روز خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ سنگجانی تھانے میں درج مقدمات میں مسلسل عدم پیشی کے بعد سامنے آیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پر درج مقدمات کا تعلق حال ہی میں وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی سیاسی کشیدگی، توڑ پھوڑ، اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے ہے۔ عدالت کی جانب سے ناقابلِ ضمانت وارنٹ کا اجرا ظاہر کرتا ہے کہ اب عدالتی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
یہ قانونی پیش رفت پی ٹی آئی کی صفِ اول کی قیادت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ علی امین گنڈاپور وفاقی حکومت کے سب سے سخت ناقد مانے جاتے ہیں اور اکثر احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کے داخلی راستوں کو مفلوج کر چکے ہیں۔ اب قانونی طور پر پولیس کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ انہیں کسی بھی وقت حراست میں لے سکے، جس سے ان کی سیاسی سرگرمیاں ایک سنگین قانونی بحران میں بدل گئی ہیں۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ ان وارنٹس کا وقت محض اتفاق نہیں ہے۔ پی ٹی آئی جب دوبارہ سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہی ہے، ریاست عدالتی عمل کو اپنے سب سے بڑے مخالف کو غیر فعال کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
مقدمات کی پیروی کرنے والے ایک سینئر وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "عدالت اب نوٹسز کے مرحلے سے آگے نکل چکی ہے۔ ناقابلِ ضمانت وارنٹ کا مطلب ہے کہ اب ریاستی مشینری کے پاس گرفتاری کا واضح قانونی جواز موجود ہے۔ اب صوبائی حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے رہنما کو پیش کرتی ہے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ براہِ راست تصادم کی راہ اختیار کرتی ہے۔”
پشاور میں صوبائی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان کا موقف ہے کہ یہ مقدمات بے بنیاد ہیں اور مقصد صرف پارٹی کی قیادت کو دباؤ میں لانا ہے۔
اب گیند پولیس کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان وارنٹس پر عمل درآمد کیسے کرتی ہے۔ اگر پولیس نے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس یا کسی عوامی اجتماع کے دوران گرفتاری کی کوشش کی، تو یہ اقدام وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو ایک خطرناک موڑ پر لے جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کے گرد قانونی شکنجہ تیزی سے سخت ہو رہا ہے، اور اب یہ وارنٹ جاری ہونے کے بعد علی امین گنڈاپور کا اگلا قدم ہی طے کرے گا کہ یہ لڑائی عدالت کی دہلیز تک محدود رہتی ہے یا سڑکوں پر کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بنتی ہے۔
