کاٹھمنڈو — نیپال کے پہاڑی علاقوں میں مون سون کی شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں مکتی ناتھ مندر جانے والے 100 سے زائد بھارتی زائرین لاپتہ ہو گئے ہیں۔
جمعرات کی رات شروع ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے پہاڑی راستوں کو کیچڑ اور ملبے کے دریاؤں میں بدل دیا ہے۔ حکام کے مطابق، سرحدی علاقوں کو ہمالیہ سے ملانے والی مرکزی شاہراہیں مکمل طور پر کٹ چکی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں سیاح اور عقیدت مند دور دراز علاقوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
مستنگ کے ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ "ہم اس وقت ایک انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ مواصلاتی نظام درہم برہم ہے اور زمین اتنی غیر مستحکم ہے کہ بھاری مشینری کے ذریعے راستے صاف کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔”
یہ سیلاب یاترا کے عروج کے دنوں میں آیا ہے، جب بھارت بھر سے ہزاروں عقیدت مند ان دشوار گزار پہاڑی راستوں کا سفر کرتے ہیں۔ بادل پھٹنے جیسے واقعات نے کئی قافلوں کو راستے میں ہی گھیر لیا۔ نیپالی فوج کے ہیلی کاپٹرز امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاہم شدید بارش اور کم بلندی پر چھائے بادلوں نے پروازوں کا سلسلہ بار بار معطل کر دیا ہے، جس سے بلند مقامات پر پھنسے لوگوں تک رسائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
لاپتہ زائرین کے اہل خانہ بے چینی اور خوف کے عالم میں ہیں۔ متاثرین میں بڑی تعداد عمر رسیدہ افراد کی ہے، جن کا اپنے ٹور آپریٹرز سے گزشتہ 30 گھنٹوں سے رابطہ منقطع ہے۔ مقامی رضاکاروں اور فوجی دستوں پر مشتمل ٹیمیں پیدل ان علاقوں کی جانب بڑھ رہی ہیں جہاں ان گروپس کی آخری لوکیشن ٹریس کی گئی تھی۔
نیپال کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس سال مون سون کے پیٹرن غیر معمولی ہیں۔ بارشوں کا تناسب اوسط سے 20 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے معمول کے پہاڑی سفر کو جان لیوا بنا دیا ہے۔ کاٹھمنڈو میں بھارتی سفارت خانے نے ایک ہاٹ لائن قائم کی ہے، تاہم سفارتی حکام کا ماننا ہے کہ جب تک سڑکیں بحال اور موبائل نیٹ ورک فعال نہیں ہوتا، معلومات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج رہے گی۔
خطے میں بارش کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور محکمہ موسمیات نے مزید 48 گھنٹے شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ اس وقت حکومتی مشینری کی تمام تر توجہ پھنسے ہوئے لوگوں کی زندگی بچانے پر مرکوز ہے۔
