بیلجیئم کے محکمہ صحت نے ملک بھر میں سالمونےلا کے 306 سے زائد کیسز کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ وبا گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تیزی سے پھیلی ہے، جس کے بعد حکام نے ہنگامی بنیادوں پر فوڈ سیفٹی الرٹ جاری کر دیے ہیں۔
وفاقی ایجنسی برائے سیفٹی آف فوڈ چین اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ حکام نے تاحال کسی ایک مخصوص برانڈ یا مصنوعات کی نشاندہی تو نہیں کی، لیکن مارکیٹ سے مشکوک اشیاء کو ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ایجنسی کے ترجمان نے منگل کے روز میڈیا کو بتایا کہ "ہم ہر ممکن سراغ کا پیچھا کر رہے ہیں،” تاہم جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ان دکانوں یا سپلائرز کا نام لینے سے گریز کیا جہاں سے یہ آلودگی پھیلی۔
متاثرہ افراد میں پیٹ میں شدید درد، تیز بخار اور ڈی ہائیڈریشن کی شکایات دیکھی گئی ہیں۔ برسلز اور اینٹورپ کے ہسپتالوں میں گزشتہ دس دنوں کے دوران مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ متاثرین میں بڑی تعداد بچوں اور معمر افراد کی ہے، جنہیں فوری طبی امداد اور ڈرپ لگانے کی ضرورت پڑی۔
یورپی سطح پر سالمونےلا کے کیسز کا سراغ لگانا پیچیدہ سپلائی چینز کی وجہ سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بیلجیئم کے حکام اب یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے ساتھ مل کر یہ جانچ رہے ہیں کہ آیا یہ متاثرہ مصنوعات سرحد پار دوسرے ممالک تک تو نہیں پہنچ گئیں۔
بڑی سپر مارکیٹ چینز نے احتیاطی تدابیر کے طور پر گاہکوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر انہوں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پیک شدہ گوشت یا ڈیری مصنوعات خریدی ہیں، تو انہیں استعمال نہ کریں اور واپسی کے لیے سٹور سے رابطہ کریں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اصل متاثرین کی تعداد 306 سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ بہت سے لوگ جن میں علامات ہلکی تھیں، انہوں نے گھر پر ہی علاج کر لیا اور ہسپتال کا رخ نہیں کیا، جس کی وجہ سے وہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بن سکے۔
حکام جمعرات کی صبح تک ان مخصوص بیچز کی فہرست جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو آلودگی کا سبب بنے۔ تب تک محکمہ صحت کی جانب سے شہریوں کو صرف ایک ہی مشورہ دیا گیا ہے: اگر کسی بھی کھانے کی چیز پر شک ہو، تو اسے فوری طور پر ضائع کر دیں۔
