امپھال — بھارت کی ریاست منی پور میں ایک بار پھر پرتشدد جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے قائم نسبتاً خاموشی ایک بار پھر ٹوٹ چکی ہے اور وادی کے سرحدی علاقوں سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق، جیری بام اور چرچند پور کے اضلاع میں مسلح گروہوں کے درمیان رات بھر فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ صبح تک کئی مکانات راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے تھے۔ خوفزدہ خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر عارضی کیمپوں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہیں، جبکہ فضا میں گولیوں اور دھماکوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
ریاستی حکومت نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر متاثرہ اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔ حکام کا موقف ہے کہ یہ اقدام افواہوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے، تاہم اس فیصلے نے ہزاروں شہریوں کو مواصلاتی رابطوں اور ہنگامی مدد سے محروم کر دیا ہے۔
ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہمیں نہیں معلوم کہ اگلا نمبر کس کا ہے۔ سکیورٹی فورسز موجود تو ہیں، لیکن حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ وہ بے بس دکھائی دیتی ہیں۔”
مئی 2023 سے شروع ہونے والا یہ نسلی تنازع میتئی اور کوکی-زو قبائل کے درمیان زمین کے حقوق، سیاسی نمائندگی اور سرکاری کوٹے پر جاری ہے۔ اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ نئی دہلی سے ہزاروں نیم فوجی دستے بھیجے جانے کے باوجود دونوں برادریوں کے درمیان موجود خلیج کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہو رہی ہے۔
امپھال میں سیاسی رہنما ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ حکومتی عہدیدار اس تازہ کشیدگی کا ذمہ دار سرحد پار سے آنے والے ‘عسکریت پسندوں’ کو ٹھہرا رہے ہیں۔
بھاری نفری کی تعیناتی کے باوجود تشدد کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ دونوں فریقین اب قلعہ بند علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے جن کے گھر اب بھی جل رہے ہیں، نئی دہلی کے امن کے وعدے ایک دور کا خواب بن چکے ہیں۔
