نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ محض شدید بارش نہیں، بلکہ پہاڑی تودے گرنے اور گلیشیئرز کا اچانک پھٹنا ہے۔ جیولوجسٹس اور موسمیاتی ماہرین کی حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بلند و بالا پہاڑوں کا توازن بگڑنے سے پانی کا ایک ایسا ریلا پیدا ہوا جس نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کر دیا۔
تباہی کا نقطہ آغاز پہاڑی سلسلے کی ایک چوٹی کا اچانک ٹوٹ کر نیچے گرنا تھا۔ جب یہ بھاری پتھریلی چٹانیں نیچے موجود گلیشیئر سے ٹکرائیں، تو برف کا توازن برقرار نہ رہ سکا۔ اس تصادم نے برف اور پانی کا ایک ایسا طوفان کھڑا کیا جس نے نچلے علاقوں میں موجود آبادیوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں دیا۔
ماہرین کے مطابق، موسمیاتی تبدیلیوں نے پہاڑوں کی ساخت کو کمزور کر دیا ہے۔ بلند مقامات پر موجود ‘پرما فرسٹ’ (برف میں جمی ہوئی مٹی) پگھلنے سے چٹانوں کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے، جس کے نتیجے میں معمولی لرزش بھی بڑے لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بن سکتی ہے۔
مقامی حکام نے ابتدائی طور پر اس تباہی کا ذمہ دار مون سون کی غیر معمولی بارشوں کو ٹھہرایا تھا۔ تاہم، سیٹلائٹ امیجز اور زمینی جائزے سے یہ واضح ہے کہ اگر گلیشیئر کا یہ حصہ نہ ٹوٹتا، تو سیلابی ریلے کی شدت اتنی زیادہ نہ ہوتی۔ یہ حادثہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں قدرتی آفات کی نوعیت اب تبدیل ہو رہی ہے۔
"ہم اب صرف بارشوں کی پیمائش تک محدود نہیں رہ سکتے،” ایک مقامی ارضیاتی ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ "پہاڑ اب پہلے کی طرح مستحکم نہیں رہے۔ جب اوپر سے ہزاروں ٹن وزنی چٹانیں برف پر گرتی ہیں، تو وہ قدرتی رکاوٹوں کو بھی توڑ دیتی ہیں۔”
اس واقعے نے خطے کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اب تک کے انتباہی نظام صرف دریاؤں میں پانی کی سطح کو مانیٹر کرتے تھے، لیکن اب ماہرین پہاڑوں میں ہونے والی معمولی ہلچل کو ٹریک کرنے کے لیے جدید سینسرز لگانے پر زور دے رہے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں انجینئرز کی ٹیمیں اب بھی یہ جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا باقی ماندہ گلیشیئرز مزید کسی بڑے تودے کے گرنے کا خطرہ تو نہیں رکھتے۔ جب تک پہاڑوں کی یہ غیر مستحکم حالت برقرار ہے، وادیوں میں بسنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے خطرہ ٹلا نہیں ہے۔
