لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبائی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہفتے میں ایک دن کسی سرکاری سکول میں بطور استاد گزاریں اور طلبہ کو پڑھائیں۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار کو بہتر بنانا اور حکومتی عہدیداروں کو زمینی حقائق سے براہِ راست روشناس کرانا ہے۔
حال ہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وزراء صرف فائلوں تک محدود رہنے کے بجائے خود سکولوں کا دورہ کریں۔ خاص طور پر وزیر تعلیم کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہر ہفتے سرکاری سکول میں ایک کلاس ضرور پڑھائیں گے۔
طویل عرصے سے یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ حکومتی عہدیدار سرکاری تعلیمی اداروں کی خستہ حالی اور اساتذہ کی غیر حاضری جیسے مسائل سے لاتعلق ہیں۔ وزیراعلیٰ کا ماننا ہے کہ وزراء کی کلاس روم میں موجودگی سے نہ صرف پالیسی سازی اور عملی نفاذ کے درمیان خلیج کم ہوگی، بلکہ سکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔
وزیراعلیٰ نے کابینہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میں چاہتی ہوں کہ وہ حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔” ان دوروں کا مقصد محض نمائشی فوٹو سیشن نہیں، بلکہ سکولوں میں سہولیات کی فراہمی، تدریس کے معیار اور داخلوں میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ وزراء کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دورے کے بعد اپنی رپورٹ براہِ راست وزیراعلیٰ آفس کو جمع کرائیں۔
اس حکم سے انتظامی نگرانی میں ایک نئی تبدیلی کی جھلک ملتی ہے، تاہم اصل چیلنج اس پر عمل درآمد ہے۔ ماضی میں تعلیمی کارکردگی کی نگرانی کے لیے بنائے گئے نظام اکثر غلط اعداد و شمار اور احتساب کے فقدان کی وجہ سے ناکام رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزراء کے ہفتہ وار لیکچرز پنجاب کے لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کرنے والے نظام کا رخ بدل سکیں گے یا نہیں۔
محکمہ تعلیم فی الحال اس اقدام کے لیے لائحہ عمل تیار کر رہا ہے، اور توقع ہے کہ وزراء اس ماہ کے آخر سے اپنے ہفتہ وار دوروں کا آغاز کر دیں گے۔
اس فیصلے کی کامیابی کا دارومدار صرف لیکچرز کی تعداد پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہوگا کہ کیا ان دوروں کے نتیجے میں سکولوں کی مرمت، ضروری سامان کی فراہمی اور نظام کی کایا پلٹنے میں کوئی حقیقی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔
