اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں حال ہی میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد لواحقین نے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر دیا ہے۔ متاثرین کا موقف ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور حفاظتی انتظامات کے فقدان نے معمولی حادثے کو ایک بڑی انسانی تباہی میں بدل دیا۔
گزشتہ روز ہسپتال کے باہر جمع ہونے والے لواحقین نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے اور الارم سسٹم نے وقت پر کام نہیں کیا، جس کی وجہ سے مریضوں کو نکالنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
ایک متاثرہ شخص، جس نے اس واقعے میں اپنے قریبی رشتہ دار کو کھو دیا، نے آبدیدہ آنکھوں سے کہا، "میرے بھائی کی موت بیماری سے نہیں، ہسپتال کی انتظامیہ کی لاپرواہی سے ہوئی۔ ہم معاوضے کے طلبگار نہیں، ہم ان ذمہ داروں کو کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں جنہوں نے حفاظتی آلات خراب ہونے کے باوجود ہسپتال کو کلیئرنس دی۔”
ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کے بعد ایک داخلی انکوائری کمیٹی تو تشکیل دی ہے، لیکن لواحقین نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی ہی بنائی ہوئی کمیٹی سے انصاف کی توقع رکھنا عبث ہے، کیونکہ اس میں بڑے افسران کو بچانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق، جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس کے پاس ہسپتال کے اعلیٰ حکام کو طلب کرنے اور مینٹیننس کے خفیہ ریکارڈز تک رسائی حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔ ایسا ہونے سے ہی ذمہ داروں کا تعین ممکن ہو سکے گا۔
اس واقعے نے وفاقی دارالحکومت کے سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کی قلعی کھول دی ہے۔ وزارت صحت نے اگرچہ تمام وفاقی ہسپتالوں میں سیفٹی آڈٹ کا اعلان کیا ہے، لیکن ناقدین اسے محض روایتی بیان بازی قرار دے رہے ہیں جو ماضی میں بھی ٹھوس نتائج لانے میں ناکام رہی ہے۔
متاثرین نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر جوڈیشل کمیشن نہ بنایا گیا تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔
مظاہرے میں شریک ایک شخص نے ہسپتال کی جلی ہوئی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "ہم جانتے ہیں کہ ایسی انکوائریاں کیسے ختم ہوتی ہیں۔ چند نچلے درجے کے ملازمین کو معطل کر کے معاملہ دبا دیا جائے گا، لیکن ہم اس بار خاموش نہیں بیٹھیں گے۔”
