تہران:
ایران میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے بدھ کے روز ساتویں مسلسل دن میں داخل ہو گئے۔ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اہم صنعتی مراکز میں پلوں، پانی کی فراہمی کے نظام اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث شہری زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں عسکری اہداف کے بجائے بنیادی شہری ڈھانچے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ابتدائی دنوں میں حملے فوجی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور دیگر سیکیورٹی اہداف تک محدود تھے، تاہم اب پلوں، سڑکوں اور پانی کی فراہمی کے نظام کو نشانہ بنائے جانے سے ملک کے اندر نقل و حمل اور ضروری خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔
متعدد متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی معطل ہونے کے بعد شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض وسطی صوبوں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کو نقصان پہنچنے کے باعث گھروں تک پانی کی فراہمی بند ہو گئی ہے، جبکہ مرمت کرنے والی ٹیموں کو بھی مسلسل فضائی حملوں کے خدشے کے باعث متاثرہ مقامات تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ایرانی حکام نے نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام متعدد حملوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہا۔ دوسری جانب مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی تصاویر اور اطلاعات میں بعض پلوں اور پانی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نمایاں نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔
علاقائی سلامتی کے ماہرین کے مطابق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا مقصد صرف عسکری نقل و حرکت کو محدود کرنا نہیں بلکہ روزمرہ زندگی اور ریاستی نظام پر بھی دباؤ بڑھانا ہے۔ ان کے مطابق پلوں، شاہراہوں اور پانی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے فوجی رسد، شہری سہولیات اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت پر سفارتی یا عسکری فیصلے کرنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات میں خلل روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے۔ انسانی امدادی اداروں نے بھی شہری آبادی کے لیے بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
جنگ کے ساتویں روز بھی کسی فوری جنگ بندی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خطے میں مزید بڑے پیمانے پر ردعمل یا عسکری کارروائیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
