اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے کر دیا گیا۔
نئے نرخوں کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 283 روپے 45 پیسے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت 288 روپے 49 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ حالیہ ہفتوں کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل دوسرا اضافہ ہے، جس سے عوام اور کاروباری حلقوں پر مزید مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل موجودہ معاشی حالات، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور حکومتی مالیاتی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بڑا اضافہ معیشت کے مختلف شعبوں پر براہِ راست اثر ڈالے گا، کیونکہ ڈیزل ملک میں مال برداری، زرعی مشینری، ٹرانسپورٹ اور صنعتی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش، زرعی اجناس اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ٹرانسپورٹرز اور کاروباری نمائندوں نے قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے سے مال برداری کے اخراجات بڑھیں گے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق اگر کرایوں اور ترسیلی اخراجات میں اضافہ نہ کیا جائے تو کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت مالیاتی استحکام کے لیے مختلف اصلاحات پر عمل کر رہی ہے، تاہم ایسے فیصلوں کے باعث عام شہریوں، خصوصاً کم اور متوسط آمدن رکھنے والے طبقے پر مالی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف سفری اخراجات تک محدود نہیں رہتے بلکہ تقریباً ہر شعبہ اس سے متاثر ہوتا ہے۔
اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی معیشت کی بہتری اور مالی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں، تاہم عوام کی بڑی تعداد مہنگائی کے مزید بڑھنے اور روزمرہ زندگی کے اخراجات میں اضافے کے خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں ان نئی قیمتوں کے اثرات ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ، زرعی پیداوار اور مجموعی مہنگائی کی شرح پر نمایاں طور پر دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
