لاڑکانہ: محکمہ آثار قدیمہ اور مقامی پولیس نے منگل کی رات موئن جو دڑو کے تاریخی مقام سے نوادرات چرانے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
سیکیورٹی گارڈز نے 4500 سال قدیم انڈس ویلی سولائزیشن کے اس اہم مقام کے ‘ایس ڈی ایریا’ میں مشکوک نقل و حرکت دیکھی۔ یہ علاقہ کھدائی کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ تلاشی لینے پر ملزم کے قبضے سے برانز ایج (کانسی کے دور) کے مٹی کے ٹکڑے اور پتھر کے قدیم اوزار برآمد ہوئے، جنہیں وہ مبینہ طور پر چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزم مقامی رہائشی ہے اور گزشتہ کئی روز سے سائٹ کی نگرانی کر رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان نوادرات کو بلیک مارکیٹ میں نجی کلیکٹرز کو فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا، جہاں ان تاریخی اشیاء کی بھاری قیمت لگائی جاتی ہے۔
محکمہ ثقافت و آثار قدیمہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ ملزم نے کیمروں کی نگرانی سے بچنے کے لیے مخصوص راستوں کا انتخاب کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ محض مٹی کے ٹکڑے نہیں، بلکہ ہماری تاریخ کا وہ اہم حصہ ہیں جو ہمیں قدیم تہذیب کے رہن سہن کے بارے میں بتاتے ہیں۔”
یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل اس مقام پر سیکیورٹی کے مسائل برسوں سے درپیش ہیں۔ مرکزی مقامات تو چار دیواری میں محفوظ ہیں، لیکن وسیع و عریض پھیلاؤ کے باعث ہر ایک انچ کی نگرانی کرنا گارڈز کے محدود عملے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس واقعے نے ماہرین آثار قدیمہ کو دوبارہ تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سائٹ کی فینسنگ کو بہتر بنایا جائے اور گارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ قدیم نوادرات کو چوری اور تجاوزات سے بچایا جا سکے۔
پولیس نے اینٹیکویٹیز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزم کو تحویل میں لے لیا ہے۔ بازیاب ہونے والے نوادرات کو تصدیق اور کیٹلاگنگ کے لیے موئن جو دڑو میوزیم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حکام نے واقعے کے بعد سائٹ کے حساس حصوں میں گشت بڑھا دی ہے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا صرف وقتی اقدامات اس تاریخی ورثے کو مستقل تحفظ فراہم کر سکیں گے؟
