لاہور — شادباغ کے علاقے میں ایک شخص نے گھریلو جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کا سر اور بھنویں مونڈ کر اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کی مدعیت میں ملزم محمد جمیل کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، ملزم نے معمولی گھریلو تنازع پر طیش میں آکر پہلے اپنی بیوی کو قابو کیا اور پھر استرے کی مدد سے اس کے سر کے بال اور بھنویں صاف کر دیں۔ واردات کے بعد ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
خاتون کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی ماہرین نے سر پر لگنے والے زخموں اور نفسیاتی صدمے کا علاج کیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق خاتون کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ "ملزم نے بہیمانہ تشدد کا ارتکاب کیا ہے۔ ہم اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں اور جلد اسے قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔”
پاکستان میں گھریلو تشدد کے واقعات اکثر سماجی دباؤ کے باعث رپورٹ نہیں ہوتے، لیکن اس واقعے نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس فرسودہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو تشدد کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔
ملک میں گھریلو تشدد کے سدِباب کے لیے قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اگرچہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، مگر ایسے کیسز میں انصاف کا حصول اکثر طویل اور پیچیدہ عمل ثابت ہوتا ہے۔
ملزم محمد جمیل تاحال مفرور ہے۔ پولیس اس کے موبائل فون کی لوکیشن ٹریس کر رہی ہے، لیکن منگل کی صبح تک وہ گرفتاری سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔
متاثرہ خاتون اس وقت اپنے رشتہ داروں کے پاس پناہ لیے ہوئے ہے۔ وہ تفتیشی حکام کو اپنے بیانات ریکارڈ کروا رہی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ قانون اس شخص تک پہنچ سکے گا جس نے ان کی تذلیل کی۔
