کراچی پورٹ پر رواں ہفتے 2,000 سے زائد الیکٹرک گاڑیوں کی کھیپ پہنچ گئی ہے، جو پاکستان کی آٹوموٹو مارکیٹ میں ایک خاموش مگر اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان گاڑیوں کی بڑی تعداد—جن میں زیادہ تر چھوٹی ہیچ بیک اور انٹری لیول کراس اوورز شامل ہیں—ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب مقامی آٹو انڈسٹری پیداوار میں کمی اور صارفین کی قوت خرید میں گراوٹ جیسے چیلنجز سے نبردآزما ہے۔
یہ درآمدات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت ایندھن کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے گرین انرجی کی جانب منتقلی پر زور دے رہی ہے۔ تاہم، ان گاڑیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ تاحال نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان میں سے زیادہ تر گاڑیاں نجی شورومز اور آن لائن مارکیٹ پلیسز میں فروخت کے لیے پیش کی جائیں گی، جن کا ہدف وہ شہری خریدار ہیں جن کے پاس گھر پر چارجنگ کی سہولت موجود ہے۔
عام ڈرائیور کے لیے مسئلہ صرف گاڑی کی قیمت نہیں، بلکہ قومی سطح پر چارجنگ گرڈ کا فقدان ہے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی برسوں سے "نیشنل ای وی پالیسی” کے دعوے کر رہی ہے، لیکن کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی عوامی چارجنگ اسٹیشنز شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔ فاسٹ چارجرز کے نیٹ ورک کے بغیر، ان 2,000 نئی گاڑیوں کا استعمال زیادہ تر مختصر شہری سفر تک ہی محدود رہے گا۔
مقامی مینوفیکچررز اس رجحان کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ 18 ماہ کے دوران بلند شرح سود اور درآمدی پرزوں کی مہنگائی کے باعث مقامی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان الیکٹرک گاڑیوں کی آمد—جن میں سے اکثر استعمال شدہ یا "گرے مارکیٹ” کے ذریعے لائی گئی ہیں—ٹیکنالوجی سے لیس خریداروں کو سستا متبادل فراہم کرتی ہیں، جس سے روایتی پیٹرول انجن والی گاڑیوں کی مارکیٹ مزید سکڑ رہی ہے۔
بندرگاہ پر موجود کسٹمز حکام نے کھیپ کی کلیئرنس کے عمل کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے ان گاڑیوں کے برانڈز یا مجموعی مالیت کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
صنعتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بیٹری کو تلف کرنے اور چارجنگ پورٹس کے معیار سے متعلق واضح ریگولیٹری فریم ورک نہ بنایا گیا تو یہ درآمدی لہر ایک پائیدار "گرین انقلاب” کے بجائے محض ایک عارضی رجحان ثابت ہوگی۔ فی الحال، ہزاروں گاڑیاں بندرگاہ پر کھڑی ان خریداروں کی منتظر ہیں جو پیٹرول کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں سے نجات پانے کے لیے کسی بھی متبادل کی تلاش میں ہیں۔
