کراچی کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک، نمائش چورنگی کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع اس اہم سنگم پر کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں، جس کے بعد شہر کے وسطی علاقے میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔
پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ حکام کی جانب سے سیکیورٹی الرٹ کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات تو جاری نہیں کی گئیں، لیکن اینٹی رائٹ فورس کی موجودگی اور رکاوٹوں کی تنصیب کسی ممکنہ خطرے کی نشاندہی کر رہی ہے۔
"ہمیں صبح پانچ بجے ہی ہدایات مل گئی تھیں کہ تمام ٹریفک کو سولجر بازار اور صدر کی طرف موڑ دیا جائے،” تعینات ایک ٹریفک وارڈن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ "ہمیں نہیں معلوم کہ یہ راستہ کب کھلے گا، فی الحال صرف ڈیوٹی پر توجہ ہے۔”
نمائش چورنگی کا بند ہونا شہر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ مقام گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ کا اہم اسٹاپ ہے اور یہاں سے گزرنے والے ہزاروں مسافروں کا روزگار اور معمول کا سفر اس بندش سے براہِ راست متاثر ہوا ہے۔ گلشنِ اقبال اور ناظم آباد سے شہر کے کاروباری مراکز کی طرف آنے والے شہریوں کو طویل ٹریفک جام کا سامنا ہے۔
علاقے میں موجود دکانداروں نے بھی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اپنے کاروبار بند رکھے ہیں۔ نمائش کے اطراف میں قائم پولیس چیک پوائنٹس پر ہر گزرنے والی گاڑی کی تلاشی لی جا رہی ہے، جس سے سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے فی الحال اس لاک ڈاؤن کی مدت کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ شہر کی یہ اہم شریان اس وقت کنٹینرز اور سیکیورٹی اہلکاروں کے نرغے میں ہے، جبکہ مسافروں کو متبادل راستوں کے انتخاب میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
