کراچی میں حکومتی شخصیات کے دورے سے قبل سڑکوں کی بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ سہیل آفریدی نے اس صورتحال پر سندھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے فوری وضاحت طلب کر لی ہے۔
منگل کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ شہر کی اہم شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کرنا انتظامی ناکامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند افراد کی آمد کے لیے لاکھوں شہریوں کو گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسانا کسی طور قابل قبول نہیں۔
شہر کے مرکزی اضلاع میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے، اور ایمبولینسوں سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کو متبادل راستوں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کاروباری حلقے بھی سڑکوں کی بندش سے ہونے والے معاشی نقصان پر سراپا احتجاج ہیں۔
سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ کیا کراچی اب ایک قلعہ بن چکا ہے جہاں ہر بار سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کا راستہ روکا جائے گا؟ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بتائے کہ ان اقدامات کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں اور یہ رکاوٹیں کتنی دیر تک برقرار رہیں گی۔
ابھی تک سندھ حکومت یا پولیس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا۔ سیکیورٹی حکام کا موقف ہے کہ یہ اقدامات "حساس نوعیت کے دورے” کے پیش نظر کیے گئے ہیں، تاہم ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ معمول کی ٹریفک کو بحال رکھنے کے لیے متبادل انتظامات کیوں نہیں کیے گئے۔
شہر میں جگہ جگہ رکاوٹوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر حکام نے شفافیت سے کام نہ لیا تو یہ معاملہ آنے والے دنوں میں سیاسی تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
فی الحال شہر کی اہم شاہراہیں کنٹینرز سے بند ہیں اور شہریوں کے لیے کل صبح کا سفر بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔
