لیاقت آباد میں منگل کی شب ڈاکوؤں نے مزاحمت کرنے پر 22 سالہ نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ شہر میں اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق مقتول اپنے گھر کے قریب تھا جب موٹر سائیکل سوار دو مسلح ملزمان نے اسے روکا۔ موبائل فون اور نقدی چھیننے کی کوشش کے دوران نوجوان کی جانب سے مزاحمت پر ایک ملزم نے قریب سے فائر کر دیا۔ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
مقامی افراد نے زخمی نوجوان کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا، مگر ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ چکا تھا۔ ہسپتال میں موجود لواحقین کا کہنا تھا کہ شہر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈاکوؤں کو روکنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔
پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ قریبی دکانوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت ممکن ہو سکے۔ تاہم، تاحال کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
ایک مقامی پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزمان واردات کے بعد گنجان آباد گلیوں کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔
کراچی میں رواں برس اسٹریٹ کرائم کے دوران شہریوں کے قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی لوٹ مار اور مزاحمت پر جان لیوا حملوں نے شہریوں کو گھر سے نکلتے ہوئے بھی خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔
لیاقت آباد کی اس گلی میں اب سوگ کا سماں ہے۔ ایک اور گھر کا چراغ بجھ گیا، پولیس روایتی کارروائیوں میں مصروف ہے، اور شہر کے باسیوں کے لیے سوال اب بھی وہی ہے: آخر کب تک؟
