پنسلوانیا کے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ ریاست میں خسرہ کے باعث دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دونوں مریضوں کو خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے نہیں لگے تھے، جس کے بعد طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
محکمہ صحت نے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت یا رہائشی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ دونوں افراد کی قوتِ مدافعت پہلے ہی کمزور تھی۔ ماہرین کے مطابق، خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے اور متاثرہ شخص کے کمرے سے جانے کے دو گھنٹے بعد تک بھی وائرس وہاں موجود رہ سکتا ہے۔
امریکا میں خسرہ کو سن 2000 میں ختم قرار دے دیا گیا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں ویکسینیشن کی شرح میں کمی نے اس وائرس کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع دیا ہے۔ پنسلوانیا میں حکام اب ان تمام افراد کی نشاندہی کر رہے ہیں جو ان ہلاکتوں سے قبل مریضوں کے رابطے میں آئے تھے۔
محکمہ صحت کے ترجمان نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ "یہ ویکسین سے بچاؤ ممکن ہونے والی بیماریوں کے خطرات کی ایک تلخ یاد دہانی ہے۔” تاہم، حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں کے نام نہ بتانے پر مقامی آبادی میں تشویش پائی جا رہی ہے اور والدین کی جانب سے مزید شفافیت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی کمیونٹی میں ‘ہرڈ امیونٹی’برقرار رکھنے کے لیے 95 فیصد آبادی کا ویکسین شدہ ہونا ضروری ہے۔ اس شرح سے نیچے گرنے کا مطلب یہ ہے کہ وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ شکار غیر ویکسین شدہ افراد ہوتے ہیں۔
خسرہ کی علامات میں تیز بخار، کھانسی اور ناک بہنا شامل ہیں، جس کے بعد جسم پر سرخ دھبے نمودار ہوتے ہیں۔ اگرچہ اکثر افراد اس سے صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے یہ نمونیہ اور دماغی سوزش جیسی جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ریاستی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے ویکسینیشن ریکارڈز چیک کریں اور اگر کسی نے ایم ایم آر ویکسین نہیں لگوائی تو اسے ترجیحی بنیادوں پر لگوائیں۔
فی الحال، محکمہ صحت نے تمام مقامی ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو حکم دیا ہے کہ خسرہ کے کسی بھی مشتبہ کیس کی اطلاع فوری دی جائے تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
