سائنسدان وقت میں سفر (ٹائم ٹریول) کے نظریاتی امکان پر تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ آیا مستقبل میں وقت کے اندر سفر کرنا سائنسی طور پر کبھی ممکن ہو سکتا ہے یا نہیں۔
ماہرینِ طبیعیات کے مطابق موجودہ تحقیق کی بنیاد البرٹ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت پر ہے، جس کے مطابق وقت ایک مستقل چیز نہیں بلکہ کششِ ثقل اور رفتار کے اثر سے اس کی رفتار تبدیل ہو سکتی ہے۔ سائنسی تجربات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خلا میں موجود خلا بازوں اور زمین کے گرد گردش کرنے والے مصنوعی سیاروں کے لیے وقت معمولی فرق کے ساتھ گزرتا ہے، جسے ٹائم ڈائلیشن کہا جاتا ہے۔
محققین ورم ہولز جیسے نظریاتی تصورات کا بھی مطالعہ کر رہے ہیں۔ ورم ہول کو خلا اور وقت میں ایک فرضی سرنگ تصور کیا جاتا ہے، جو نظریاتی طور پر کائنات کے دو دور دراز مقامات یا مختلف اوقات کو آپس میں جوڑ سکتی ہے۔ تاہم سائنسدان واضح کرتے ہیں کہ اب تک ایسا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ قابلِ استعمال ورم ہولز حقیقت میں موجود ہیں یا ان کے ذریعے وقت میں سفر ممکن ہے۔
جدید تحقیق میں کوانٹم میکینکس، بلیک ہولز اور اسپیس ٹائم کی ساخت کا بھی مطالعہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ آیا فزکس کے قوانین مستقبل یا ماضی میں سفر کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ موجودہ سائنسی معلومات کے مطابق انتہائی خاص حالات میں مستقبل کی جانب وقت کا فرق پیدا ہونا تو نظریاتی طور پر ممکن ہے، لیکن ماضی میں سفر اب بھی محض ایک مفروضہ ہے اور اس کے ساتھ کئی پیچیدہ سائنسی مسائل جڑے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ماضی میں سفر کے تصور کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ مختلف سائنسی تضادات ہیں، جن میں مشہور "دادا پیراڈوکس” شامل ہے۔ اس نظریے کے مطابق اگر کوئی شخص ماضی میں جا کر ایسی تبدیلی کرے جو اس کی اپنی موجودگی پر اثر انداز ہو، تو منطقی تضادات پیدا ہو سکتے ہیں۔
سائنسدان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وقت میں سفر اب بھی ایک نظریاتی تصور ہے، کوئی ثابت شدہ ٹیکنالوجی نہیں۔ سائنس فکشن فلموں اور ڈراموں میں دکھائے جانے والے بیشتر خیالات موجودہ سائنسی حقائق سے کہیں آگے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کششِ ثقل، کوانٹم طبیعیات اور کائنات کی بنیادی ساخت پر جاری تحقیق مستقبل میں وقت کی حقیقی نوعیت کے بارے میں مزید معلومات فراہم کر سکتی ہے، اگرچہ عملی طور پر وقت میں سفر کرنا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ نئی نظریاتی تحقیق انسان کی اس مسلسل کوشش کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد کائنات کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک، یعنی وقت کی اصل حقیقت، کو سمجھنا ہے۔
