انڈونیشیا کے جنگلات میں لگی آگ سے اٹھنے والا زہریلا دھواں جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک تک پھیل گیا ہے، جس سے خطے میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر پڑوسی ممالک کے ساتھ سفارتی کشیدگی کو ہوا دے دی ہے۔
سماٹرا اور کلیمینٹن کے علاقوں سے اٹھنے والا یہ گھنا دھواں آبنائے ملاکا کو عبور کر کے ملائیشیا اور سنگاپور کے آسمانوں تک پہنچ چکا ہے۔ انڈونیشیا کے متاثرہ صوبوں میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ ہسپتالوں میں سانس کی تکالیف میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
جامبی اور ریاؤ کے رہائشیوں کے لیے یہ دھواں صرف پریشانی نہیں بلکہ صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ مقامی مانیٹرنگ اسٹیشنز کے مطابق ہوا میں موجود باریک ذرات (PM2.5) کی مقدار عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ محفوظ معیار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ کچھ علاقوں میں حدِ نگاہ 100 میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے پروازیں متاثر ہوئی ہیں اور شہریوں کو گھر سے باہر نکلتے ہوئے ماسک پہننا پڑ رہے ہیں۔
یہ آگ زیادہ تر زرعی زمینوں کو صاف کرنے کے روایتی ‘سلیش اینڈ برن’ (کاٹ کر جلانے) کے طریقے کا نتیجہ ہے۔ پام آئل کی کمرشل کمپنیوں اور چھوٹے کسانوں کے لیے یہ زمین صاف کرنے کا سستا ترین ذریعہ ہے، جو خشک موسم میں قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ انڈونیشیا کی پیٹ لینڈز (دلدلی زمینیں) کاربن سے بھرپور ہوتی ہیں، جو ایک بار آگ پکڑ لیں تو ہفتوں تک زمین کے اندر سلگتی رہتی ہیں، جسے بجھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
انڈونیشیا کی وزارتِ جنگلات کا دعویٰ ہے کہ آگ بجھانے کے لیے ہزاروں اہلکار اور واٹر بمبار طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ تاہم، تباہی کا پیمانہ بتاتا ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑی زرعی کمپنیوں کے خلاف حکومتی کارروائی اب بھی کمزور ہے، اور مقامی حکام تب تک حرکت میں نہیں آتے جب تک دھواں پڑوسی ممالک تک نہ پہنچ جائے۔
یہ مسئلہ دہائیوں پرانا ہے۔ ملائیشیا اور سنگاپور بارہا جکارتہ پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی کمپنیوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرے۔ اگرچہ انڈونیشیا نے ماضی میں کچھ کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کیے، لیکن ہر خشک موسم میں آگ کا یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ کے نئے مراکز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ آنے والے دن مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔ ان لاکھوں لوگوں کے لیے جو اس وقت دھوئیں کے حصار میں سانس لینے پر مجبور ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اس سالانہ تباہی کا مستقل حل کب نکلے گا۔
