کراچی کی شاہراہِ فیصل پر ٹریفک کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ کل شام اس وقت ایک انسانی المیے میں بدل گیا جب کینسر میں مبتلا 12 سالہ عائشہ ایمبولینس کے اندر پھنسی رہ گئی۔ بچی کو کیموتھراپی کے لیے وقت پر ہسپتال پہنچنا تھا، لیکن شہر کی بے ہنگم ٹریفک نے اس کا راستہ روک لیا۔
شہر کی اہم شاہراہوں پر غیر اعلانیہ احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے باعث ٹریفک کا نظام چار گھنٹے تک مفلوج رہا۔ عائشہ کے والد، محمد اقبال، نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ "وہ درد سے کراہ رہی تھی، اور گاڑی کے اندر گرمی کا ہر لمحہ اس کے لیے اذیت ناک تھا۔”
جب وہ سول ہسپتال کے آنکولوجی وارڈ پہنچے، تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ ہسپتال انتظامیہ نے قواعد کے مطابق ان کی باری کسی اور مریض کو دے دی تھی۔
کراچی میں ایمبولینسز کے لیے مختص راستوں کا تصور صرف کتابوں تک محدود ہے۔ شہر کی سڑکوں پر سائرن کی آوازیں اکثر بے صبرے ڈرائیوروں کے ہورن کے شور میں دب جاتی ہیں۔ ٹریفک پولیس کی ناقص حکمت عملی اور سڑکوں پر جاری تعمیراتی کاموں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ احتجاجی دھرنوں اور سڑکوں کی بندش نے ٹریفک کے بہاؤ کو متاثر کیا، لیکن ان وضاحتوں سے عائشہ جیسے مریضوں کا نقصان پورا نہیں ہوتا۔ محمد اقبال کا کہنا تھا کہ "ہم گھر سے دو گھنٹے پہلے نکلتے ہیں، مگر اس شہر میں وقت کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔”
عائشہ کو تاخیر سے ہسپتال میں داخل تو کر لیا گیا، لیکن ڈاکٹروں کے مطابق اس تاخیر کے باعث اسے علاج کے نئے شیڈول سے گزرنا پڑے گا۔ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور سڑکوں پر روزانہ کا یہ ہنگامہ ان مریضوں کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں جن کی زندگی کا انحصار وقت پر ہسپتال پہنچنے پر ہے۔
