کراچی — صدر کے گنجان آباد کاروباری علاقے ریگل چوک پر ہونے والی 90 لاکھ روپے کی بڑی ڈکیتی کا سنسنی خیز ڈراپ سین ہوا ہے، جہاں پریڈی تھانے کی پولیس نے مقابلے کے بعد زخمی حالت میں ڈکیتی کے ماسٹر مائنڈ نور ولی کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے دوران یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس واردات کا مخبر کوئی اور نہیں بلکہ کمپنی کا ایک انتہائی قابلِ اعتماد ملازم تھا جو گزشتہ 10 سال سے وہاں کام کر رہا تھا اور جسے مالک کی طرف سے شاندار مراعات حاصل تھیں۔
پولیس حکام کے مطابق، شمسی توانائی کے آلات کا کاروبار کرنے والے ڈیلر کے پرانے ملازم بلال عرف شینا نے اس ہائی پروفائل ڈکیتی کے لیے مخبری کا کردار ادا کیا۔ کمپنی کے مالک نے بلال کو سال میں تین بونس، کاروباری ریکوری پر بھاری حصہ اور ایک موٹر سائیکل بھی تحفے میں دے رکھی تھی، لیکن اس نے اس سب کے باوجود اپنے مالک کے بھروسے کا خون کیا اور خطیر رقم کی نقل و حرکت کی معلومات جرائم پیشہ گینگ کو فراہم کر دیں۔
یہ واقعہ رواں سال 14 فروری کو پیش آیا تھا، جب کراچی کے علاقے صدر میں ریگل چوک کے قریب دو مسلح ڈاکوؤں نے سولر ڈیلر کے ڈیلیوری رائیڈر کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا اور اس سے 90 لاکھ روپے نقد رقم چھین کر فرار ہو گئے۔
ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس نے پہلے دو ملزمان اسد اور بلال کو گرفتار کیا تھا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا، "مخبر بلال گزشتہ دس سال سے ڈیلر کے پاس کام کر رہا تھا اور اسے روزمرہ کی مالی لین دین اور بینکنگ کے اوقات کا اچھی طرح علم تھا۔ واردات والے دن ملزم بلال کھانا پہنچانے کے بہانے مالک کے گھر گیا، جہاں اس نے دیکھا کہ دو ملازمین رقم بینک میں جمع کروانے کے لیے نکل رہے ہیں۔ اس نے فوراً اپنے ڈاکو ساتھیوں کو الرٹ کر دیا۔”
گرفتار ملزمان کی نشان دہی پر پولیس نے کامیاب چھاپہ مار کر زمین میں چھپائی گئی 45 لاکھ روپے کی آدھی رقم برآمد کر لی، جسے ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے گڑھا کھود کر دفن کیا ہوا تھا۔ ابتدائی ملزمان سے تفتیش کے بعد پریڈی پولیس نے گینگ کے سرغنہ نور ولی کا سراغ لگایا اور ایک مقابلے کے بعد اسے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔
تفتیش کے دوران کیس میں ایک عجیب و غریب موڑ اس وقت آیا جب معلوم ہوا کہ ملزمان کراچی میں اتنی بڑی ڈکیتی کرنے کے بعد خیبر پختونخوا فرار ہو گئے تھے، جہاں انہوں نے لوٹی ہوئی رقم کے ساتھ اپنی دولت کی نمائش شروع کر دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے خیبر پختونخوا پہنچ کر اس کامیابی کا جشن منانے کے لیے ٹک ٹاک ویڈیوز بنائیں، جن میں اسد اور گینگ کے ماسٹر مائنڈ نور ولی کو واضح طور پر لوٹی ہوئی رقم کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
ملزمان میں شامل نور ولی اس گینگ کا ماسٹر مائنڈ ہے اور اس کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے کالا ڈھااکہ سے ہے، جسے پولیس مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ اسد اور کمپنی کا اندرونی مخبر بننے والا بلال خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کے رہائشی ہیں۔
کراچی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ماسٹر مائنڈ نور ولی سے باقی ماندہ 45 لاکھ روپے کی برآمدگی کے لیے سخت تفتیش جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ گینگ شہر میں اس طرح کی دیگر مالیاتی ڈکیتیوں میں بھی ملوث رہا ہے یا نہیں۔
