نیویارک — امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے اسٹاک مارکیٹ میں اپنی تاریخی پبلک لسٹنگ سے محض ایک ہفتہ قبل ٹیکس کی دنیا کی بڑی کمپنی گوگل کے ساتھ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپیوٹنگ کا ایک انتہائی بڑا اور اربوں ڈالر کا معاہدہ فائنل کر لیا ہے۔ جمعہ کے روز سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق، اس معاہدے کے تحت گوگل اکتوبر 2026 سے جون 2029 تک اسپیس ایکس کو ماہانہ 920 ملین ڈالر ادا کرے گا تاکہ وہ اسپیس ایکس کے تقریباً 1 لاکھ 10 ہزار اینویڈیا گرافکس پروسیسنگ یونٹس، سینٹرل پروسیسنگ یونٹس اور دیگر جدید ترین ہارڈ ویئر تک رسائی حاصل کر سکے۔
یہ معاہدہ اسپیس ایکس اور مصنوعی ذہانت کے ادارے ‘انتھروپک’ کے درمیان پہلے سے موجود ایک بڑے معاہدے سے مماثلت رکھتا ہے، جس کے تحت وہ کمپنی اسپیس ایکس کو 2029 تک ماہانہ 1.25 ارب ڈالر ادا کر رہی ہے۔ گوگل کا یہ نیا معاہدہ انتھروپک کے زیرِ استعمال انفراسٹرکچر کی گنجائش کے نصف کے برابر ہے۔ اگرچہ اسپیس ایکس نے یہ واضح نہیں کیا کہ گوگل کو کون سا ڈیٹا سینٹر فراہم کیا جائے گا، لیکن کمپنی کے سربراہ ایلون مسک پہلے ہی یہ بتا چکے ہیں کہ زیرِ تعمیر ‘کولوسس 2’ ڈیٹا سینٹر صرف ان کی اپنی کمپنی ‘ایکس اے آئی’ کے لیے مخصوص رہے گا۔
دیگر کمپنیوں کے برعکس، گوگل کو دنیا میں مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ پاور کا سب سے بڑا مالک مانا جاتا ہے، تاہم گوگل کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ یہ معاہدہ ایک قلیل مدتی حکمتِ عملی ہے تاکہ ان کے ‘جیمنائی انٹرپرائز’ سافٹ ویئر کی غیر متوقع اور شدید عالمی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ گوگل کی بنیادی کمپنی ‘الفابیٹ’ اس سال انفراسٹرکچر پر 180 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کر رہی ہے، اور 2027 میں اس میں مزید اضافے کا پلان ہے۔
اس معاہدے میں دونوں کمپنیوں کے لیے لچک بھی رکھی گئی ہے؛ 31 دسمبر 2026 کے بعد دونوں میں سے کوئی بھی فریق 90 دن کا نوٹس دے کر یہ معاہدہ ختم کر سکتا ہے۔ مزید برآں، اگر اسپیس ایکس 30 ستمبر 2026 تک گوگل کو مطلوبہ ہارڈ ویئر فراہم کرنے میں ناکام رہا، تو گوگل کے پاس اس معاہدے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا پورا اختیار ہوگا۔
اسپیس ایکس کی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی پبلک لسٹنگ سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل اس منافع بخش ڈیل کا سامنے آنا کمپنی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا، جس سے کمپنی کو 1.75 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ مالیت پر 75 ارب ڈالر جمع کرنے میں مدد ملے گی۔ گوگل، جو کہ اسپیس ایکس کا پرانا سرمایہ کار ہے، حصص کی عوامی فروخت کے بعد کمپنی میں اپنے موجودہ شیئرز کی مالیت 100 ارب ڈالر سے زائد ہونے کی توقع کر رہا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے دونوں کمپنیاں خلا میں ‘آربیٹل ڈیٹا سینٹرز’ بنانے پر بھی بات چیت کر رہی ہیں، جو اسپیس ایکس کے مستقبل کے منصوبوں کا ایک بڑا حصہ ہے۔
