کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں منگل کی سہ پہر ایک یونیورسٹی طالب علم کو اس کے گھر کے باہر اسلحہ کے زور پر لوٹ لیا گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس میں دو ملزمان کو موٹر سائیکل پر آتے اور واردات کے بعد باآسانی فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
فوٹیج میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار ایک مسلح ملزم تیزی سے اترتا ہے اور طالب علم کی جانب پستول تان لیتا ہے۔ طالب علم نے مزاحمت کرنے کے بجائے فوراً اپنا موبائل فون اور نقدی ملزمان کے حوالے کر دی۔ واردات چند سیکنڈ میں مکمل ہوئی، جس کے بعد ملزمان موٹر سائیکل پر سوار ہو کر پر ہجوم سڑک پر غائب ہو گئے۔
علاقہ مکینوں کے لیے یہ کوئی انوکھی واردات نہیں ہے۔ دن دہاڑے، گھر کی دہلیز پر ہونے والی اس ڈکیتی نے ایک بار پھر شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس جگا دیا ہے۔ گلشنِ اقبال جیسے گنجان آباد علاقے میں اس طرح کی کھلے عام لوٹ مار مقامی پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں اور ملزمان کی شناخت کے لیے قریبی کیمروں کی مدد لی جا رہی ہے۔ تاہم، اب تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔ ملزمان نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے، جس کی وجہ سے ان کے چہرے شناخت کرنا تفتیشی ٹیم کے لیے ایک چیلنج ہے۔
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سٹیزن پولیس لائیژنس کمیٹی (سی پی ایل سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ہر ماہ ہزاروں شہری اپنے قیمتی سامان سے محروم ہو رہے ہیں، جبکہ بہت سے متاثرین تھانوں کے چکروں سے بچنے کے لیے رپورٹ درج کروانے سے ہی گریز کرتے ہیں۔
متاثرہ طالب علم یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کر کے گھر واپس پہنچا تھا کہ اس کا سامنا ان لٹیروں سے ہو گیا۔ خوش قسمتی سے وہ جسمانی طور پر محفوظ رہا، لیکن اس کے موبائل فون اور ضروری دستاویزات چھین لی گئیں۔
شہر میں موٹر سائیکل سوار لٹیروں کے خلاف آئے روز کریک ڈاؤن کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی گلیوں میں اب گھر سے باہر نکلنا بھی ایک جوا بن چکا ہے۔ پولیس کی حکمت عملی اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتا ہوا یہ فاصلہ شہریوں کے لیے روز کا معمول بن گیا ہے۔
