وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں کل ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم کا دورہ متوقع ہے، جس کا مقصد ہسپتال میں مریضوں کو درپیش مسائل اور انتظامی کوتاہیوں کا جائزہ لینا ہے۔
یہ تحقیقاتی عمل ایسے وقت میں شروع کیا جا رہا ہے جب ہسپتال میں ادویات کی قلت اور ایمرجنسی وارڈز میں سہولیات کے فقدان کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ وزارتِ قومی صحت کے ذرائع کے مطابق، ٹیم کا بنیادی فوکس بجٹ کے استعمال اور ہسپتال میں جاری انتظامی امور کی شفافیت پر ہوگا۔
پمز میں روزانہ ہزاروں مریض علاج کے لیے آتے ہیں، لیکن طویل انتظار اور تشخیص کے لیے درکار آلات کی خرابی نے معمول کی زندگی کو مشکل بنا رکھا ہے۔ ہسپتال کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ بنیادی طبی سامان کی فراہمی میں تعطل نے ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کے لیے بھی کام کرنا دشوار کر دیا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم میں وزارتِ صحت کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ساتھ مالیاتی آڈیٹرز بھی شامل ہیں۔ یہ ٹیم صرف ریکارڈ چیک نہیں کرے گی، بلکہ اس بات کا سراغ لگائے گی کہ وفاقی گرانٹس سے خریدی جانے والی ادویات مریضوں تک کیوں نہیں پہنچ پاتیں۔
ہسپتال انتظامیہ نے اس دورے کے پیشِ نظر اپنے ریکارڈز کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ تاہم، ہسپتال کے عملے میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ تحقیقات صرف ایک رسمی کارروائی ثابت ہوں گی یا واقعی کوئی ٹھوس اصلاحات لائیں گی۔ ماضی میں ہونے والے ایسے آڈٹ اکثر معمولی تبادلوں تک محدود رہے ہیں، جس کے بعد مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں۔
توقع ہے کہ تحقیقاتی ٹیم اپنی ابتدائی رپورٹ ہفتے کے آخر تک وزیرِ صحت کو پیش کر دے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ کارروائی وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال میں بہتری کا نقطہ آغاز بنتی ہے یا معاملہ صرف فائلز تک محدود رہے گا۔
