جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے اور آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کے خلاف 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جاری دھرنے کے اختتام پر کیے گئے اس اعلان نے وفاقی حکومت کے لیے نئی سیاسی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کی جانب سے دیے گئے ریلیف پیکج کو مسترد کرتے ہوئے اسے "متاثرہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے” کے مترادف قرار دیا ہے۔ اُن کا موقف ہے کہ جب تک بجلی کے نرخوں میں مستقل کمی اور آئی پی پیز سے ہونے والے مہنگے معاہدوں پر نظر ثانی نہیں کی جاتی، احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
"حکومت سمجھتی ہے کہ چند وقتی رعایتوں سے عوام خاموش ہو جائیں گے،” حافظ نعیم الرحمٰن نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ "ہم ملک کو بند کر کے حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ بجلی کے شعبے میں استحصالی نظام کو تبدیل کرے۔”
یہ ہڑتال موجودہ اتحادی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب معیشت آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، کاروباری مراکز کا بند ہونا سپلائی چین اور روزمرہ کی معاشی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کی قیادت کو تاجر برادری سے مکمل تعاون کی توقع ہے، جو پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں اور بھاری ٹیکسوں کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔
ابھی تک حکومت کی جانب سے اس ہڑتال کے اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اسلام آباد اور لاہور میں سکیورٹی حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماضی میں کراچی اور راولپنڈی میں جماعتِ اسلامی کے احتجاجی مظاہرے کافی مؤثر رہے ہیں، جہاں پارٹی کا تنظیمی نیٹ ورک مضبوط ہے۔
تنازع کی جڑ آئی پی پیز کو دی جانے والی "کیپیسٹی پیمنٹس” ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومتوں کے دور میں کیے گئے یہ معاہدے یکطرفہ ہیں، جن میں نجی سرمایہ کاروں کے منافع کو عوام کی قوتِ خرید پر ترجیح دی گئی ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ 3 ستمبر کو کاروباری مراکز کتنی تعداد میں بند رہتے ہیں۔ اگر کراچی، لاہور اور فیصل آباد کی بڑی مارکیٹیں شٹر ڈاؤن کرتی ہیں، تو حکومت کے لیے ان مطالبات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
فی الحال، گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومتی ایوانوں میں بیٹھے حکمران اپنی معاشی پالیسیوں میں کوئی لچک دکھاتے ہیں یا پھر 3 ستمبر کا دن ملک بھر میں معاشی پہیہ جام کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
