شرم الشیخ: مصر میں ہونے والی غزہ امن معاہدے کی دستخطی تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی غیر موجودگی نے سب کو حیران کر دیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے معاہدے پر دستخط کیے۔
ایک طرف اسرائیلی حکومت غزہ میں جنگ بندی کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریب سے غیر حاضری نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے جان بوجھ کر خود کو دستخطی تقریب سے علیحدہ رکھا۔ رپورٹ کے مطابق ان کی غیر موجودگی کی ایک بڑی وجہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات سے گریز تھی۔
دوسری جانب ترک میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اگر نیتن یاہو تقریب میں شریک ہوتے تو ترک صدر رجب طیب اردوان اجلاس میں شرکت نہ کرتے۔
ترک ذرائع کے مطابق اردوان کا طیارہ شرم الشیخ ایئرپورٹ پر اترنے ہی والا تھا کہ اچانک دوبارہ فضا میں بلند ہوگیا۔ مصری حکام کو پیغام دیا گیا کہ اگر نیتن یاہو اجلاس میں شریک ہوئے تو ترک وفد واپس روانہ ہو جائے گا۔
تاہم جب یہ تصدیق ہوئی کہ اسرائیلی وزیراعظم تقریب میں موجود نہیں ہوں گے، تو ترک صدر کا طیارہ ایئرپورٹ پر اترا اور وہ اجلاس میں شریک ہوئے۔
شرم الشیخ میں ہونے والا غزہ امن معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
