یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر ایک نئے اور غیر معمولی موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صحرائے اعظم سے اٹھنے والا گرد و غبار کا ایک بڑا طوفان بحیرہ روم عبور کر کے براعظم کی فضاؤں میں داخل ہو رہا ہے، جس سے آسمان کا رنگ نارنجی اور دھندلا پڑنے کا قوی امکان ہے۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ معدنی ذرات سے بھرپور ہوا اسی ہائی پریشر سسٹم کے ذریعے شمال کی جانب دھکیلی جا رہی ہے جس نے جنوبی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اگرچہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت عوامی صحت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، لیکن یہ دھول سانس کے مریضوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔
اسپین اور اٹلی کے فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے مراکز نے پہلے ہی انتباہ جاری کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فضا میں موجود باریک ذرات کی سطح عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ حفاظتی معیارات سے تجاوز کر سکتی ہے۔ میڈرڈ میں مقیم ایک موسمیاتی محقق کا کہنا ہے کہ "یہ صرف گرمی کا مسئلہ نہیں، یہ دھول زمین کی سطح پر گرمی کو قید کر رہی ہے، جس سے رات کے وقت بھی درجہ حرارت کم نہیں ہو پا رہا۔ یہ ریت اور گرد کا ایک ایسا غلاف ہے جو گرمی کو باہر جانے سے روک رہا ہے۔”
اس صورتحال کا بصری اثر بھی کافی نمایاں ہوگا۔ جزیرہ نما آئبیریا سے لے کر الپس کے پہاڑی سلسلوں تک آسمان کا نیلا رنگ دھندلی زردی میں بدل جائے گا۔ کئی علاقوں میں یہ دھول بارش کے قطروں کے ساتھ مل کر ‘خونی بارش’ کا سبب بن سکتی ہے، جس کے بعد عمارتوں اور گاڑیوں پر مٹی کی ایک تہہ جم جائے گی۔
صحرائے اعظم سے گرد و غبار کا یہ عمل قدرتی طور پر تو ہوتا رہتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اب یہ طوفان پہلے کی نسبت زیادہ شدت کے ساتھ اور دور دراز کے شمالی علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔
توانائی کے شعبے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سولر پینلز پر دھول کی تہہ جمنے سے بجلی کی پیداوار میں عارضی کمی کا خدشہ ہے، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ایئر کنڈیشننگ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے بجلی کی طلب اپنے عروج پر ہے۔
جیسے جیسے یہ غبار براعظم کے اندرونی حصوں کی طرف بڑھ رہا ہے، حکام کی توجہ ان عمر رسیدہ افراد پر مرکوز ہے جو پہلے ہی شدید گرمی کی زد میں ہیں۔ نارنجی رنگ کا یہ آسمان شاید تصویروں میں ڈرامائی لگے، لیکن لاکھوں لوگوں کے لیے یہ بدلتے ہوئے موسموں کی ایک تلخ یاد دہانی ہے، جہاں گرمی اور گرد و غبار کا امتزاج زندگی کو مزید دشوار بنا رہا ہے۔
