انڈونیشیا کے مشرقی جزائر کے قریب منگل کی صبح آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں اب تک 47 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 12 منٹ پر آیا، جس کا مرکز مالوکو جزائر کے ساحل سے 120 کلومیٹر دور اور 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔
متاثرہ ساحلی اضلاع میں امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے، جس کے باعث ڈاکٹرز زخمیوں کو کھلے آسمان تلے اور ہنگامی خیموں میں طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ عمارتوں کے ڈھانچے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جس سے طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی رہائشی احمد یوسف نے تباہی کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہا، "زمین صرف ہلی نہیں، بلکہ لہروں کی طرح اچھلی تھی۔ ہمیں کچھ بھی سنبھالنے کا موقع نہیں ملا، ہم بس اپنی جان بچا کر باہر بھاگے۔”
زلزلے کے فوراً بعد سونامی کا الرٹ جاری کیا گیا، جس سے ساحلی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہزاروں لوگ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب بھاگے۔ اگرچہ تین گھنٹے بعد الرٹ واپس لے لیا گیا، لیکن ساحلی آبادیوں میں اب بھی شدید خوف کی فضا قائم ہے۔
بجلی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے، جس سے رات کے اندھیرے میں ریسکیو آپریشن شدید متاثر ہو رہا ہے۔ حکام نے فوری طور پر بھاری مشینری اور طبی امداد کی اپیل کی ہے، تاہم لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکیں ٹوٹنے کی وجہ سے امدادی قافلوں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
انڈونیشیا کے محکمہ موسمیات اور جیوفزکس کے مطابق زلزلے کے بعد 5.0 شدت سے زائد کے کم از کم 15 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے۔ ان آفٹر شاکس نے ریسکیو ٹیموں کے کام کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جنہیں اپنی حفاظت کے پیش نظر بار بار کام روکنا پڑ رہا ہے۔
انڈونیشیا "پیسیفک رنگ آف فائر” پر واقع ہے، جہاں زلزلے اور آتش فشاں کے واقعات معمول ہیں۔ یہ علاقہ پہلے ہی سال کے آغاز سے چھوٹے جھٹکوں کا شکار رہا ہے، جس سے بنیادی ڈھانچہ پہلے سے ہی کمزور ہو چکا تھا۔
مواصلاتی نظام منقطع ہونے اور دیہی علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔
